خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 199
خطبات طاہر جلد 13 199 خطبہ جمعہ فرمودہ 18 / مارچ 1994ء کا کوئی بڑا گر وہ تمام دنیا پر اپنے نیک اثرات ڈال سکے اور ان کی حالتیں بدلے اور ان کا اتفاق اسلام کے لئے برکت اور عظمت اور نتائج خیر کا موجب ہو، یہاں اتفاق کا لفظ ایسا ہے جس پر مزید غور کی ضرورت ہے اتفاق تک تو سمجھ آ گئی اور ا تفاق لفظ اکثر جگہوں پر سمجھ آ گیا ہوگا۔مگر اس کی اہمیت کیا ہے؟ واقعہ یہ ہے کہ اگر الہی جماعتوں سے اتفاق اٹھ جائے تو ان کی تمام برکتیں جاتی ہیں۔تو جو ہوا بنی ہوتی ہے وہ جاتی رہتی ہے۔دشمن پر ان کا رعب باقی نہیں رہتا اور ان کے اندر تاثیر کی طاقتیں باقی نہیں رہتی۔پس اگر مقصد یہ ہے کہ دنیا پر ان کی نیک صلاحیتیں اثر انداز ہو جائیں تو لازم ہے کہ جماعت ایک ہاتھ پر اکٹھی ہو۔جہاں جہاں بھی جماعتوں میں اختلاف پیدا ہوتا ہے وہاں سے تمام برکتیں اٹھ جاتی ہیں اور کئی مثالیں میں نے اس سے پہلے پیش کیں ہیں، بعض خطبات اس موضوع پر دیئے مگر بہت سے بدنصیب ہیں جو نہیں سمجھتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی جماعت احمدیہ کی تمام برکات کو اتفاق سے وابستہ کیا اور یہ ایک ایسے عارف باللہ کا کلام ہے کہ جسے خدا نے خود ہدایت دی جس کو مہدی کہا جاتا ہے۔جس کی ہدایت کی راہ آسان کرنے کے لئے آسمان سے دو گواہ ظاہر ہوئے جو پہلے کبھی کسی بچے کے حق میں ظاہر نہیں ہوئے۔اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہدایت یافتہ ہیں، اللہ کے نور سے دیکھنے والے ہیں۔آپ کے کلام کو غور سے پڑھنا غور سے سنا اور غور سے سمجھنا چاہئے۔ابھی بھی اپنی جماعتوں کے متعلق شکایتیں ملتی رہتی ہیں اور عجیب بات ہے کہ دونوں طرف کے لوگ نہایت متقی بن کر مجھے خط لکھتے ہیں۔ابھی جرمنی کی بعض جماعتوں کے متعلق امیر صاحب نے بڑی کوشش کی کہ کسی طرح اصلاح ہو جائے لیکن وہ باز ہی نہیں آتے ایسے فتنہ مزاج لوگ جوان میں بیٹھے ہوئے ہیں جوا بھارتے رہتے ہیں اور ایک دوسرے کے خلاف الزامات اور ہر ایک جو خط لکھتا ہے وہ ایسا متقی بن کے خط لکھتا ہے کہ انسان کہتا ہے کہ یہ تو بڑا امام بننے والا ہے۔کہتا ہے دیکھو میرا دل کتنا صاف ہے، ہم شریف لوگ ہیں فتنے کے جواب میں دوسرا کہتا ہے کہ دیکھیں ہم نے ہر بات تسلیم کر لی امیر صاحب کی ہر اچھی بات کا اثبات میں جواب دیا مگر یہ بد بخت ہیں ایسے گندے ہیں جن کی پروردہ نہیں جب تک ان کو اٹھا کر باہر نہ نکال دیا جائے اس وقت تک ہماری اصلاح ہو ہی نہیں سکتی۔دونوں کے دلوں میں بغض یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ اس طرح صرف ایک ہی کا قصور ہوا اور اتنا لمبا عرصہ فسادر ہے۔جو متقی لوگ