خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 121
خطبات طاہر جلد 13 121 خطبہ جمعہ فرمودہ 18 فروری 1994ء نے کتاب الصوم میں درج کی ہے کہ رسول خدا ﷺ نے فرمایا۔جب رمضان کا مہینہ آتا ہے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور دوسری یہ روایت ہے کہ جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں۔یعنی آسمان کے دروازوں سے مراد کیا ہے؟ جنت کے دروازے اور جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور شیطان جکڑ دیئے جاتے ہیں اور ایک اور روایت میں آیا ہے کہ رحمت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔(بخاری کتاب الصوم) اس حدیث سے متعلق پہلے بھی کئی سال سے یہ بات جماعت کے گوش گزار کرتا رہا ہوں کہ ظاہری طور پر دیکھا جائے تو رمضان کے مہینے کا کوئی ایسا اثر دنیا پر تو ظاہر نہیں ہوتا جس سے یہ معلوم ہو کہ گناہ کم ہو گئے ہیں اور نیکیاں بڑھ گئی ہیں اور جہنم کے دروازے بند ہورہے ہیں اور جنت کے کھل رہے ہیں۔اور بسا اوقات خود مسلمانوں میں بھی ایسے بد نصیب نظر آتے ہیں جو رمضان کے مہینے میں ایسی حرکتیں کرتے ہیں کہ جہنم کے دروازے یوں لگتا ہے پہلے سے زیادہ بڑے ہو کر کھل رہے ہیں اور جنت کے دروازے ان کے لئے اور بھی تنگ ہوتے چلے جارہے ہیں۔اس لئے اس مضمون کو سمجھنے کے لئے انسان کو اپنی ایک کائنات کا تصور کرنا ہو گا۔ہر انسان کی اپنی زمین ہے اور اپنا آسمان ہے اور اس حدیث کا تعلق ہر شخص کی زمین اور ہر شخص کے آسمان سے ہے۔وہ شخص جو رمضان میں اپنی کائنات میں تبدیلیاں پیدا کرتا ہے اور وہ نیکیاں اختیار کرتا ہے جو اس مہینے کے ساتھ وابستہ ہیں اور جو اس کے لئے آسان کر دی جاتی ہیں۔اس کے لئے یقیناً اس کے آسمان کے دروازے کشادہ ہور ہے ہوتے ہیں اور اس کی جہنم کے دروازے بند ہورہے ہوتے ہیں۔لیکن اگر رمضان آئے اور وہ ان نیکیوں سے فائدہ نہ اٹھائے تو پھر اس حدیث کے مضمون اور اس کی خوشخبریوں کا اطلاق اس کے جہاں پر نہیں ہوتا۔یہی وجہ ہے کہ غیروں کا جہان دیکھیں وہ اس حدیث کے مضمون سے متقی ، بے نیاز ایک الگ زندگی بسر کر رہا ہے اور اس کے مشاغل اسی طرح بد ہیں جیسے پہلے ہوا کرتے تھے ، رمضان نے ان پر کوئی نیک اثر نہیں ڈالا۔رمضان میں کیوں یہ دروازے یعنی رحمت کے اور بخشش کے دروازے زیادہ کھولے جاتے ہیں اور روزمرہ کی زندگی میں کیوں نسبتا تنگ ہو جاتے ہیں۔اس مضمون پر غور کریں تو حقیقت