خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 122 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 122

خطبات طاہر جلد 13 122 خطبہ جمعہ فرمودہ 18 فروری 1994ء یہ ہے کہ رمضان میں نیکی کی ایک فضا قائم ہوتی ہے، ایک ماحول بن جاتا ہے چھوٹے چھوٹے بچے بھی کہتے ہیں ہمیں اٹھاؤ ہم نے بھی روزہ رکھنا ہے اور بعض بے چارے جب آدھی رات کو اٹھتے ہیں تو گھبرا جاتے ہیں کہ نہیں ہم نے اتنی جلدی روزہ نہیں رکھنا مگر نیکی کی خواہش ضرور ان کے دلوں میں کلبلاتی ہے اور ہر گھر میں یہ نمونے دکھائی دیتے ہیں اور بعض جو پورا نہیں رکھ سکتے ہیں ہمیں دو روزے رکھوا دو آدھے آدھے رکھ لیں گے لیکن روزے کی طرف توجہ، نمازوں کی طرف توجہ اس عمر میں بھی شروع ہو جاتی ہے جس عمر میں ابھی ان عبادتوں کا ان کو مکلف نہیں کیا گیا ان پر یہ عبادتیں فرض نہیں کی گئیں۔تو یہ تو وہ ماحول ہے جیسے برسات کے زمانے میں بعض جڑی بوٹیاں پھوٹتی ہیں سبزہ ہر طرف پھوٹنے لگتا ہے یا بہار کے دنوں میں بعض بنجر علاقوں میں بھی بہت خوب صورت پھول نکل آتے ہیں۔تو رمضان کا موسم ہے جس کی بات ہو رہی ہے اس موسم میں تمہارے دل نیکیوں پر آمادہ ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ ان میں ایک طبعی میلان جوش مار رہا ہے کہ نیکی کریں۔اس فضا سے فائدہ اٹھاؤ، یہ نیکیوں کی جو ہوا چلائی گئی ہے ان ہواؤں کی رخ پر تیز رفتاری سے آگے بڑھو۔پھر دیکھو کہ تمہارے لئے جنت کے دروازے کھلتے چلے جائیں گے اور جہنم کے دروازے تم پر بند ہوتے چلے جائیں گے۔پس آنحضرت ﷺ نے جن دروازوں کے کھلنے کا ذکر کیا ہے وہ ہر انسان کی اپنی کائنات الله کے الگ الگ دروازے ہیں اور جن شیطانوں کے جکڑ دینے کا ذکر فرمایا ہے وہ بھی ہر انسان کے اپنے اپنے نفس کے شیطان ہیں۔جو رمضان کے تقاضے پورے کرنے کی تمنار کھتے ہیں ان کے شیطان ضرور جکڑے جاتے ہیں اور رمضان کے بعد اور رمضان کے دوران کی کیفیت میں آپ نے دیکھا ہو گا کہ کیسا ہی کوئی انسان نیک ہو پھر بھی فرق پڑ جاتا ہے۔جورمضان کے دوران نیکی پر پابندی اختیار کی جاتی ہے، گناہوں اور لغویات سے بچنے کی احتیاطیں کی جاتی ہیں وہ رمضان کے بعد ویسی نہیں رہتی۔تو اگر چہ جو شیطان ایک دفعہ قید کر دیا جائے حق تو یہ ہے کہ اسے عمر قید کی سزا ملے اور پھر بھی آزادی نہ ملے لیکن انسان کمزور ہے اور کسی نہ کسی پہلو سے کچھ آ زادیاں اپنے شیطان کو ضرور دے دیتا ہے۔پھر ایک اور رمضان آتا ہے پھر ایک اور آتا ہے پھر ایک اور آتا ہے۔دعا یہ کرنی چاہئے کہ ہمیں موت ایسی حالت میں آئے کہ جب ہمارا شیطان جکڑا ہوا ہو۔ہمیں خدا ایسے وقت میں بلائے جب کہ جنت کے دروازے ہمارے لئے پوری طرح کشادہ ہو چکے ہوں اور ایسے وقت میں ہم جان دیں