خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 120
خطبات طاہر جلد 13 120 خطبه جمعه فرموده 18 فروری 1994ء جگہ سمجھتے ہیں جہاں حج کی جاتی ہے اور وہاں مرزا صاحب کی زیارت ہی سے گویا کہ عمر بھر کا حج ہو جاتا ہے۔یہ تو خیر لغو، بے ہودہ ، ظالمانہ اعتراض ہیں۔ضمنا مجھے یاد آیا تو میں نے بیان کر دیا، مگر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس نصیحت میں حکمت وہی تھی جو خود حضرت اقدس محمد مصطفیٰ ے کی نصیحت میں شامل تھی یعنی دوری سے کچھ زنگ لگ جاتے ہیں کچھ کمزوریاں پیدا ہو جاتی ہیں۔بار باران کو صاف کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔یہی فلسفہ ہے جو اسلامی عبادات کے ساتھ منسلک ہے۔اس گہرائی کے ساتھ کہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایک ایسا شخص جس کے پاس ندی بہتی ہو، صاف شفاف پانی اس ندی میں بہہ رہا ہو اور وہ پانچ وقت اس میں غسل کرے اس کے جسم پر میل کچیل کیسے رہ سکتی ہے۔( بخاری کتاب الصلوۃ حدیث نمبر : ۴۹۷) صلى الله تو وہ فائدہ جو حضرت محمد مصطفی ﷺ کی صحبت سے حاصل ہوسکتا تھا خدا تعالیٰ نے آپ کے دین میں ایسا دائمی کر دیا کہ بعد کے آنے والے زمانوں میں بسنے والے اور پیدا ہونے والے انسانوں کو یہ شکوہ اب نہیں ہوسکتا کہ ہمارے لئے پاک کرنے کی کوئی صورت باقی نہیں رہی۔پس پانچ وقت کی نمازیں یہ وہ عبادتیں ہیں جن میں انسان بار بار غو طے لگا کر اپنی کثافتوں کو دور کرتا ہے اپنے میلوں کو دھوتا ہے اور پھر جمعہ کی عبادت ہے اور پھر حج کا ایک فریضہ ہے جو عمر بھر کے گند کو صاف کرنے اور میلوں کو بدن سے دور کرنے کے لئے روحانی بدن سے دور کرنے کے لئے کافی ہو جاتا ہے۔ایک رمضان ہے جو ہر سال دہرایا جاتا ہے اور رمضان کے ساتھ وابستہ نصیحتیں بھی ہر سال دہرائی جاتی رہنی چاہئیں اور لازم ہے کہ انسان ان کو غور سے سنے اور حرز جان بنائے ، اپنے دل کی گہرائیوں میں جگہ دے اور یہ نیک ارادے باندھے کہ میں ان سے پوری طرح استفادہ کروں گا۔رمضان میں بھی دراصل حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی صحبت ہی ہے جو فیض پہنچاتی ہے۔جب ہم آپ کی احادیث کے حوالے سے نصیحت کرتے ہیں تو وہ صحبت سے جو صحابہ پاتے تھے وہی بات ہے جو الفاظ میں آپ کے سامنے رکھی جاتی ہے اور پھر آنحضرت ﷺ کا اسوہ حسنہ جو زندگی کے مختلف ادوار میں آپ سے ظاہر۔ہوا اور روزانہ صبح و شام کے بدلنے کے ساتھ بھی وہ نئے جلوے اپنے اندر پیدا کرتا اور دکھاتا رہا، ان جلووں کے حوالے سے بھی صحبت کا ایک حصہ ہمیں میسر آجاتا ہے۔آنحضرت ﷺ نے ایک موقع پر فرمایا۔ابو ہریرہ سے روایت ہے۔بخاری و مسلم دونوں