خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 995
خطبات طاہر جلد 13 995 خطبہ جمعہ فرمودہ30/دسمبر 1994ء تک رخ محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف رہے گا آپ کے دل میں وہ شفاف آئینہ ہو گا جو اس چمک کو لیتا ہے ایک زاویے سے دوسروں پر بھی وہ روشنی ڈالتا ہے اس وقت تک آپ کی یہ دعا درست، آپ کی یہ تمنائیں اچھی ، اے اللہ ! محمد رسول اللہ ﷺ کا جلوہ سب دنیا کو دکھا دے۔اگر یہ نہیں اور اس کے لئے باشعور کوشش بھی نہیں ہے تو فرضی باتیں ہیں، ان فرضی باتوں میں تو ساری دنیا مبتلا ہے۔عالم اسلام دیکھیں کس امید پر بیٹھا ہوا ہے محض ان فرضی خیالوں میں کہ اسلام نے ضرور غالب آجانا ہے۔غالب آنے سے پہلے اسلام جوان سے قربانی چاہتا ہے۔جو ان سے تبدیلیاں چاہتا ہے ان کی طرف کسی کو کوئی خیال نہیں آپ ہی آپ غالب آجائے سال کے بعد سال گزر جاتا ہے۔پس میں چاہتا ہوں کہ احمدی سال اس طرح نہ گزریں۔ہر سال چند ایسے لمحات میں سے گزر کر آگے سفر شروع کرے جو اپنے نفس کے محاسبے کے لمحات ہوں اور بڑی دیانتداری اور خلوص کے ساتھ انسان اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور پھر کچھ ارادے باندھے اور ان ارادوں کا زاد راہ لے کر اگلے سال میں داخل ہو۔ہماری تو یہ سوچیں ہیں ، ہمارے تو یہ ارادے ہیں۔دعاؤں کے ساتھ نیکیوں کا زاد راہ لے کر آگے بڑھتے ہیں، بڑھتے رہیں گے۔بدقسمی سے ہمارے غیر بھی کچھ ایسے ہیں جو ہر سال بدارادے باندھتے ہیں۔ہمارے سفر محبت کے سفر ہیں اور ہمار ا ز ادراہ محبت کا زادراہ ہے۔ان کے سفر بدی کے سفر ہیں اور محض دوسرے کو تکلیف پہنچانا، عذاب دینا، کسی طرح ان کے لئے ہلاکت کے سامان پیدا کرنا ، یہ سوچیں لے کر وہ نئے سالوں میں داخل ہوتے ہیں اور انہی سوچوں کے ساتھ پھر وہ جماعت کو چیلنج دیتے ہیں کہ دیکھو یہ سال کس کا بنتا ہے۔1994ء کے حوالے سے بھی بہت کچھ ایسا ہوا لیکن یہ لمبے تذکرے ہیں ،مختصر شاید میں چند باتیں بیان کر سکوں اور باقی مضمون ایسا ہے جو ہر سال جلسہ سالانہ پر جو آخری تقریر ہے اس میں یا درمیانی تقریر میں یہ مضمون بار بار یعنی جاری مضمون کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔لیکن سب سے پہلے میں یہ پسند کروں گا کہ آج سے سو برس پہلے جو 1894ء تھا اس کے نقوش پر غور کر کے آپ کو بتاؤں کہ اس سال کے کیا اہم نقوش تھے اور یہ وہ دوسرا حصہ ہے یعنی اجتماعی سوچ کا۔اس لئے مضمون قطع کر کے میں اس حصے میں داخل ہورہا ہوں۔شروع میں ہی میں نے آپ کو سمجھایا تھا کہ دوطریق سے سالوں کے جوڑ منائے جاتے ہیں۔ایک انفرادی طور پر جو میرے نزدیک زیادہ اہم ہے اور دوسرا اجتماعی طور پر۔اب اجتماعی موازنے کے طور پر میں آپ کے سامنے