خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 994 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 994

خطبات طاہر جلد 13 994 خطبہ جمعہ فرمودہ 30 دسمبر 1994ء ہے تو غیروں پر بھی طاقت عطا ہوتی ہے۔یہ محض کوئی فرضی بات نہیں ہے۔نفسیاتی لحاظ سے ایک طے شدہ ، ثابت شدہ حقیقت ہے۔وہ لوگ جو مسمریزم سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں ، جو علم طب میں دلچسپی رکھتے ہیں وہ اگر مطالعہ کریں یا ان کو اچھا استاد میسر آئے تو وہ لازماً ان کو یہ بتائے گا کہ پہلے اپنی Will کو، اپنے فیصلے کی طاقت کو اپنے نفس پر جاری کرنے کی کوشش کرو اور اس کی ورزش کرو چینی طور پر۔اگر نہیں کرو گے تو تمہیں غیروں کے دماغ پر اثر انداز ہونے کی کوئی طاقت نہیں ملے گی اور اسی طرح Will Power کو تقویت دی جاتی ہے۔اس کے بغیر آپ گھر بیٹھے جو مرضی کریں اور آپ کا نفس آپ کی بات مانے گا ہی نہیں بلکہ آپ اس کے زیر نگیں چلتے رہیں اور پھر سوچیں کہ میں سوچوں گا فلاں آدمی یوں کرے تو یوں کرنے لگ جائے گا یہ محض احمق کی خواب ہے اس سے زیادہ اس کی کوئی حقیقت نہیں۔پس فَذَكَّرُ انْ نَفَعَتِ الذِّكْری میں جس ناصح کا ذکر ہے وہ ہر شخص کے اندر موجود ہے اور میں اس ناصح کو مخاطب ہوں۔ہر احمدی کے اس ناصح کو مخاطب ہوں جس سے نصیحت کے سفر کا آغاز ہونا ہے۔پس نئے سال کے سفر میں داخل ہونے سے پہلے اپنے اس ناصح کو بیدار کریں اور اگر ہر آدمی کرے تو اس کو غیر معمولی طاقتیں عطا ہوں گی۔یہ میں جانتا ہوں خدا تعالیٰ نے انسانی فطرت کو اسی طرح بنایا ہے اور خدا تعالیٰ کی تخلیق میں کوئی تبدیلی نہیں۔جہاں قرآن کریم نے انسان کے اللہ کی فطرت پر پیدا ہونے کا ذکر فرمایا ساتھ ہی یہ فرما دیا کہ لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللهِ (الروم : 31) اللہ نے جو کچھ کر دیا ہے اس میں تم کبھی تبدیلی نہیں کر سکتے۔پس اس بنیادی اصول کو اپنے پلے باندھ لیں کہ پہلے آپ نے اپنے نفس کی تسخیر کرنی ہے۔اپنے نفس کے اندر موجود ناصح کو جگانا ہے، اس کو اپنے نفس پر غلبہ عطا کرنا ہے اور جب اس کو آپ یہ سکھا دیں اور یہ توفیق مل جائے جو دعاؤں کی مدد کے بغیر نصیب نہیں ہو سکتی تو پھر اللہ کے فضل کے ساتھ آپ کے اندر سے ایک ایسی قومی شخصیت بیدار ہوگی کہ اسے لا زماما حول پر غالب آنا ہے اور اس ایک نصیحت پر عمل پیرا ہونے کے نتیجے میں جو قرآن سے ہم نے سیکھی اور حضرت محمد ﷺ کی ذات میں اس نے عظیم جلوہ دکھایا ہے ہم اس جلوہ صلى الله محمد کو سب دنیا پہ عام کر سکتے ہیں۔جب ہم دعائیں کرتے ہیں اے اللہ محمد رسول اللہ ﷺ کا جلوہ عام کر تو وہاں بھی یہ سوچنے کی بات ہے کہ اس جلوہ کو عام کرنے میں ہم نے اپنے نفس کے کون سے حصے کو چپکایا ہے کہ وہ شیشے کی طرح جلوہ محمدمصطفی سے کا، کوئی شکارہ، کوئی اس کی چمک دنیا کو دکھا دے۔جب