خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 996
خطبات طاہر جلد 13 996 خطبه جمعه فرمودہ 30 دسمبر 1994ء کچھ مثالیں رکھتا ہوں کہ سب سے پہلے تو ہمیں سوچنا چاہئے کہ سوسال پہلے اس مقدس دور میں ، جس نے آج کے دور کی بناڈالی اور آئندہ سب ادوار کی بناڈال چکا ہے، کیا ہوا تھا ؟ وہ سال کیسے گزرا تھا ؟ اس سال کے اہم امور یہ ہیں کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو 1894ء میں بعض بہت ہی اہم اور بہت دور رس اثر رکھنے والی تصنیفات کی توفیق ملی اور خصوصیت کے ساتھ عرب دنیا کو آپ نے اس سال میں مخاطب فرمایا اور اللہ تعالیٰ نے عرب دنیا میں اس کے نتیجہ میں لبیک کہنے والے بھی بڑے عظیم پیدا کئے اور 1894ء کا یہ سال اس پہلو سے اتنی اہمیت رکھتا ہے کہ مؤرخ احمدیت مولوی دوست محمد صاحب نے جب اس سال کا موازنہ کیا تو سب سے نمایاں چیز ان کو یہی محسوس ہوئی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا عربوں میں نفوذ اگر کسی ایک سال سے وابستہ کیا جاسکتا ہے تو وہ 1894ء ہے اور عجیب بات ہے کہ جماعت احمد یہ عالمگیر کا آج 1994ء بھی اس پہلو سے نمایاں ہے۔اور خدا تعالیٰ نے جو ہمیں MTA جاری کرنے کی توفیق عطا فرمائی یہ بھی اس سال کا پھل ہے۔7 جنوری 1994ء کو یہ عالمی پروگرام جاری ہوا ہے اور اسی سال اسی پروگرام کی برکت سے اس کثرت سے عربوں کی توجہ احمدیت کی طرف ہوئی ہے کہ معلوم ہوتا ہے ہمارے مخالفین پر ایک زلزلہ آ گیا ہے۔بار بار سعودی عرب کے گزٹ اور ان کے اخبارات اس بات کو اچھال رہے ہیں اور ایک اخبار تو یہ لکھتا ہے کہ اب فور حرکت کرو جس تیزی سے احمدیت کا نفوذ پھیل رہا ہے اور عربوں پر خصوصیت سے اثر انداز ہے اگر ہم نے آج کا رروائی نہیں کی تو پھر یہ بہت لیٹ ہو جائے گا۔وہ الفاظ یہ ہیں سعودی گزٹ 27 / جون 1994 ء یہ چھ مہینے کی بات ہے اس کے بعد بہت پانی آگے گزر چکا ہے۔یہ میں جون کی بات بتا رہا ہوں۔ابھی انہوں نے جولائی میں ظاہر ہونے والی بیعتیں نہیں دیکھی تھیں اور گھبراہٹ کا اور پریشانی کا یہ عالم تھا وہ لکھتے ہیں: It is now time that we stop talking about countring the Kufr propeganda of Mirza Ghulam Ahmad's devient followers and establish a globel Islamic T۔V۔Broadcast Station without delay۔