خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 977
خطبات طاہر جلد ۱۲ 977 خطبہ جمعہ ۱۷ر دسمبر ۱۹۹۳ء رکھا اس کے بعد استغفار رکھا ہے۔قرآن کریم پڑھ کے دیکھیں فرمایا اللہ کا ذکر کرتے ہیں پھر وہ بخشش طلب کرتے ہیں۔اس سے مراد یہ ہے کہ ان کو محبت ہوتی ہے اور اگر کسی سے محبت ہو اور کوئی ایسا فعل سرزد ہو جو اس سے دوری کا موجب بن سکے تو معافی بعد میں آئے گی پہلے اس کی یاد آئے گی اور جو خدا کو پہلے یاد کرتے ہیں پھر معافی مانگتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے خوشخبری دی ہے کہ ہم انہیں معاف فرما دیں گے۔تو بخشش بھی محبت سے پنپتی ہے اگر تعلق ہو اور ایک انسان جھک جائے اور کہے کہ مجھے معاف کر دو۔تو بعض دفعہ ایک انسان کہتا ہے کہ تم کیوں معافی مانگ رہے ہو میں تو تم سے ناراض ہو ہی نہیں سکتا۔یہ معافی مانگ کے شرمندہ نہ کرو۔تو اللہ تعالیٰ کے عجیب انداز ہیں اپنے محبت کے اظہار کے۔فرمایا فاحشہ کر دیتے ہیں بعض دفعہ لیکن ذَكَرُوا الله فورا اللہ کی یاد آتی ہے اور جھکتے ہیں اس کے گرد اور روتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے خدا ہمیں معاف فرما دے۔جواب میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں تو معاف کر چکا ہوں۔پس یہی مضمون ہے جو اس حدیث میں بیان ہو رہا ہے۔اللہ فرماتا ہے وہ میرے ذکر کرنے والے بندے ہیں۔ان کو بتاؤ کیا فرماتا ہے میں تمہیں بتاتا ہوں کہ میں ان کو معاف کر چکا ہوں۔آنحضور ﷺ کے الفاظ یہ ہیں۔ان باتوں کے بعد یعنی جن کا ذکر گزر چکا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے انہیں بخش دیا اور انہیں وہ سب کچھ دیا جو انہوں نے مجھے سے مانگا اور میں نے ان کو اس چیز سے پناہ دی جس چیز سے وہ میری پناہ طلب کرتے تھے۔تو اللہ تعالیٰ تو پہلے ہی اپنے پیاروں کی دعائیں سننے کے لئے گویا تیار بیٹھا ہے اور فرشتوں کو جو بیچ میں ڈالا تو ان سے دو وجوہات سامنے آتی ہیں۔ایک تو یہ کہ اپنے پیار کے اظہار کے لئے ، دوسرے یہ نہیں کہ ان سے کچھ پوچھ رہا تھا ان کو بتا نا مقصود تھا اور یہ بتانا تھا کہ ان بندوں کو میں معاف کر چکا ہوں ان کی بخشش کے سامان ہو چکے ہیں ان کو میں سب کچھ دے چکا ہوں جو مجھ سے یہ مانگتے رہے ہیں۔یہ اس لئے ضروری ہے اظہار کہ فرشتے وہی کرتے ہیں جو اللہ کرتا ہے وہی چاہتے ہیں جو اللہ چاہتا ہے اور جس سے خدا راضی ہو اس کی تائید میں فرشتے چلتے ہیں۔پھر تو یہ مضمون محض ایک کہانی کے رنگ میں نہیں ہے۔اس کے اندر گہرے سبق ہیں اور بہت ہی گہری معلومات ہیں۔مراد یہ ہے کہ