خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 976 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 976

خطبات طاہر جلد ۱۲ 976 خطبہ جمعہ ۱۷ر دسمبر ۱۹۹۳ء ساتھ نہیں بیٹھتی تو ہمیں چاہئے کہ ذکر الہی کی مجالس لے کر دنیا تک پہنچیں اور ان مجالس کو عام کریں۔وہ لوگ جو اس وقت دعوت الی اللہ میں مصروف ہیں۔ان کو میں خصوصیت سے اس حدیث کے حوالے سے یہ بات سمجھانا چاہتا ہوں۔دعوت الی اللہ کا اگر صرف یہی مقصد ہو اگر احمدیوں کی تعداد بڑھے تو یہ تو ایک لغو اور بے معنی مقصد ہے۔اللہ سے محبت کرنے والوں کی تعداد بڑھانا مقصد ہے۔خدا کا ذکر کرنے والوں کی تعداد بڑھانی ہے۔پس اگر بھرتی کر کے آپ ایک طرف پھینکتے چلے جائیں ان کو تو کیا فرق پڑتا ہے، خدا کے بندوں کی دنیا تو اربوں تک ہے۔چند آدمی ہم نے اپنی جماعت میں مزید داخل کر لئے تو کیا فرق پڑے گا۔وہ آدمی بنا ئیں جن کے آنے سے، جن کے ذکر سے زمین سے آسمان تک فرشتوں سے بھر جائیں اور فرشتے ان پر سایہ کریں اور جو ان کے ساتھ بیٹھے اس کے بھی مقدر جاگ جائیں۔خواہ وہ چلنے پھرنے والا مسافر ہی کیوں نہ ہو۔جس کے پاس وہ بیٹھیں اس کے نصیب جگادیں اور یہ ذکر الہی سے ممکن ہے کیونکہ یہ مضمون ذکر الہی کے تعلق میں بیان ہوا۔پس جن لوگوں کو آپ احمدی بناتے ہیں۔ان کے ساتھ ذکر کی مجلسیں لگائیں۔آپ کو اللہ تعالیٰ نے ذکر کے بہت سے مضمون سمجھا دیئے ہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کھوئی ہوئی باتوں کو دوبارہ حاصل کر لیا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم دنیا کے لئے لائے تھے لیکن رفتہ رفتہ مسلمان بہکتے بہکتے ان باتوں سے دور چلے گئے اور ان کے مضامین کو سمجھنے کے قابل نہ رہے۔ذکر کا مضمون آنحضور صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے بیان فرمایا ہے اور بڑے بڑے صوفیاء جیسے کہ میں نے پچھلے خطبے میں بیان کیا تھا۔ذکر کے انداز بدل بیٹھے، اس کی ماہیت سے نا واقف ہو گئے اور کہیں سے کہیں محمد رسول اللہ کے غلاموں کو ہانک کر کسی اور جگہ پہنچا دیا۔پس ہمارا کام ہے ان کو ، بنی نوع انسان کو ، خصوصا امت محمدیہ کو وہ ذکر سکھائیں جس کا ذکر حضور اکرم ﷺ کے ارشادات میں بھی ملتا ہے اور آپ کی ساری زندگی اسی ذکر پر مشتمل تھی اور اس سے کام میں برکت پڑے گی سب سے اچھی تربیت یہ ہے۔میں نے تو ساری زندگی میں غور کر کے اس سے بہتر نسخہ کوئی نہیں دیکھا تربیت کا کہ اللہ کا ذکر کرو۔اللہ تعالیٰ تو قرآن کریم میں فرماتا ہے۔إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا الله ( آل عمران : ۱۳۶) وہ ایسے لوگ ہیں کہ اگر ان فاحشہ بھی ہو جائے تو ذکر الہی کرتے ہیں۔اب فاحشہ اور ذکر الہی کے درمیان استغفار نہیں