خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 975 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 975

خطبات طاہر جلد ۱۲ 975 خطبہ جمعہ ۱۷؍ دسمبر ۱۹۹۳ء عظمت باقی نہیں رہتی ایک ہی ہے جو عظیم ہے۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم فرماتے ہیں کہ وہ جو جنت، خدا تعالیٰ فرماتا ہے جنت دیکھی ہے؟ وہ کہیں گے نہیں دیکھی تو نہیں۔اچھا اگر دیکھ لیتے تو پھر کیا کرتے؟ بغیر دیکھے یہ حال ہے کہ مجھ سے جنت مانگ رہے ہیں تو ان کو کیا پتا کہ کیا مانگ رہے ہیں پھر فرماتا ہے جہنم کبھی دیکھی ہے انہوں نے ؟ وہ کہتے ہیں نہیں۔وہ کہتا ہے اگر وہ میری جہنم دیکھ لیتے تو ان کا کیا حال ہوتا ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ایک اور مقام پر فرماتے ہیں کہ اگر انسان کو خدا تعالیٰ کی پکڑ کا احساس ہو جائے تو اس کے گناہ کا کوئی سوال ہی اس کے لئے باقی نہیں رہتا۔سب کچھ جل جائے اس میں اور اگر اس کی بخشش کا پتا چل جائے تو وہ تو سمجھے کہ ساری کائنات ہی میری ہے، موجیں کرتا پھرے۔تو اللہ تعالیٰ ان دونوں کے مابین، دونوں کے درمیان انسان کو چلاتا ہے۔اپنی بخشش کا بھی اظہار کرتا چلا جاتا ہے اور اپنی پکڑ سے بھی متنبہ کرتا چلا جاتا ہے۔فرماتا ہے اس سے بڑھ کر کوئی بخشش کرنے والا نہیں اس کی رحمت ہر دوسری چیز پر محیط ہے اور پھر فرماتا ہے کہ خدا تعالیٰ قرآن کریم میں بتاتا ہے کہ اللہ کی پکڑ سے زیادہ اور کوئی پکڑ نہیں ہے۔تو جنت اور جہنم یہ دو مضمون ہیں جو ہمارے سامنے کھول رہے ہیں اور آنحضرت یہ فرماتے ہیں کہ اس معاملے میں تمہارے لئے ابھی بہت سے سفر باقی ہیں جب تم جنت مانگتے ہو تو تمہیں پتا نہیں ہے کہ تم کیا مانگ رہے ہو اس لئے اور غور کرو۔خدا تعالیٰ کے جنت کے مضمون کو اور سمجھو، معلوم تو کرو کہ وہ ہے کیا چیز اور خدا کا خوف دل پر جاری کرنے کی غرض سے جہنم کے مضمون کو بھی زیادہ گہرائی سے سمجھو اور ہلکے پھلکے انداز میں اس کو نہ لینا۔اگر تم جہنم کے مضمون سے واقف ہو جاؤ تو پھر اللہ تعالیٰ اس کے جواب میں فرماتا ہے ان کا کیا حال ہو؟ یعنی کوئی ایسی کیفیت ہے کہ جس کو انسان سمجھ نہیں سکتا کہ کیسی عجیب کیفیت طاری ہو جائے گی۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسا شخص، ایسے لوگ جو خدا کے ذکر میں اس طرح محو ہوں کہ صرف ذکر الہی کی بات ہو رہی ہے۔اللہ کی پیار کی باتیں ہیں اور بخشش طلب کی جارہی ہے۔اس سے اس کی نعمتیں مانگی جارہی ہیں۔ایسے لوگوں کے ساتھ جو بیٹھ جائے وہ بھی بدنصیب نہیں ہوا کرتا۔تو ہم تو ساری دنیا کے لئے برکتیں لے کر آئے ہیں۔ساری دنیا کی نجات کا موجب بن کر آئے ہیں۔اگر دنیا ہمارے