خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 974
خطبات طاہر جلد ۱۲ 974 خطبہ جمعہ کے ارد سمبر ۱۹۹۳ء عظیم ہوگا اور اگر وہ تمام صفات حسنہ کسی ایک وجود میں پائی جائیں تو اس کو حقیقی معنوں میں ہم عظیم کہہ سکتے ہیں کہ بڑا عظیم انسان ہے۔ایک لفظ عظیم میں آپ نے اس کو پتا نہیں کتنی دا دیں دے دی ہیں اور حقیقت میں جب کسی انسان کا آپ کے دل پر رعب پڑتا ہے اور آپ اس کی صفاتِ حسنہ سے متاثر ہوتے ہیں۔تو بے اختیار دل سے اس کی عظمت کا ترانہ اٹھتا ہے۔وہ بہت عظیم انسان ہے اور وہاں کسی سے مقابلے کا مضمون نہیں ہوتا۔اس کے مقابل پر عظیم کا سوال کبھی نہیں اٹھا نہ ذہن اس طرف متوجہ ہوتا ہے۔اپنی ذات میں گویا بے مقابلہ رہ گیا ہے وہ شخص اور مقابلے کا کوئی سوال نہیں رہا۔سبحان الله العظیم کہہ کر یعنی سکھا کر ہمیں اللہ تعالیٰ نے توجہ دلائی کہ سبحان کا رستہ اختیار کرو۔پہلے اللہ تعالیٰ کو ، ہر عیب سے بلکہ ہر غیر اللہ سے پاک خیال کرو۔یقین کرو اس کے مضمون کو سمجھو، اس کو اپنی زبان کے ساتھ اپنے دلوں پہ جاری کرو۔پھر تمہیں حمد کی اجازت ہوگی۔یعنی پھر تم مجاز ہو گے اس بات کے تمہارا حق ہوگا کہ حمد بیان کرو کیونکہ گندگی کے ساتھ حمد نہیں رہ سکتی۔ہر جگہ جہاں پا کی پیدا ہوگی اس کے ساتھ ہی حمد کا مضمون خود بخود ابھر آئے گا اور پھر تم سبحان اللہ العظیم کہو گے تو ایک نئی شان کے ساتھ کہو گے نئے عرفان کے ساتھ کہو گے۔اللہ کی عظمت اس طرح تمہارے وجود پر چھا جائے گی کہ کسی اور وجود کا سوال ہی نہیں رہے گا۔اکبر کا کیا سوال، اعظم کا کیا سوال ہے پھر۔جب اور ہے ہی کوئی نہیں تو لا اله الا اللہ میں جو مضمون ہے وہی عظیم کے لفظ نے وہی ان کلمتان میں ہے یعنی ان دو کلموں میں ہے۔اور لفظ عظیم میں اکیلا ایک عظیم رہ گیا ہے۔تو کوئی اور وجود ہے ہی نہیں تو اس کے ساتھ مقابلہ کیا کیا جائے۔یہ وہ طریق تھا جس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اپنے صحابہ کو سمجھایا کرتے تھے کہ اس طرح حمد کی جاتی ہے۔یہ دو کلمات آپ ہی نے تو بیان فرمائے کہ خدا کو بہت پیارے ہیں اور ان میں وزن بھی بہت ہے۔زبان پر ہلکے ہیں لیکن اس میں ایک ایک فقرے میں گہرے مضامین پوشیدہ ہیں۔ہلکے ہیں لیکن ہلکے سمجھنا نہ اور اگر ہلکے نہ سمجھو گے اور وزن دار سمجھو گے تو پھر وزن کی تلاش بھی کرو گے۔ورنہ بغیر تلاش کے اسی طرح زبان فر فر کرتی آگے نکل جائے گی۔مطلب ہے ٹھہر ٹھہر کر سوچ سوچ کر سمجھ سمجھ کر اپنے وجود میں جاری کرتے ہوئے آگے بڑھو اور پھر تم ایسی دنیا میں پہنچ جاؤ گے۔جہاں خدا کے سوا کسی کی