خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 964
خطبات طاہر جلد ۱۲ 964 خطبہ جمعہ کے ارد سمبر ۱۹۹۳ء کا جلسہ سالانہ بھی کل ۱۸؍ دسمبر سے شروع ہو رہا ہے اور فرینکفرٹ جرمنی کی نومسلموں کی تربیتی کلاس بھی اللہ کے فضل سے ۱۹؍ دسمبر کو شروع ہوگی۔نومسلموں کی تربیت کا جواب نیا دور شروع ہوا ہے یہ بہت ہی اہمیت رکھتا ہے۔اس سے پہلے مجھے یاد نہیں کہ کبھی منظم طریق پر نو مبائعین یا نومسلمین کو اپنے اندر جذب کرنے اور ان کی تربیت کرنے کا اس طرح منصوبہ کے تحت پروگرام بنایا گیا ہو لیکن جو جماعتیں اللہ کے فضل سے مستعد ہو چکی ہیں۔انہوں نے بہت اچھے منصوبے بنائے ہیں بہت عمدگی سے ان پر عمل ہو رہا ہے۔جرمنی میں تقریبا 1600 کے لگ بھگ بیعتیں ہوئی تھیں اور اب جہاں تک مجھے اطلاعیں مل رہی ہیں ساری جماعت جرمنی ان کو مختلف حصوں میں بانٹ کر خاندان خاندان کر کے سنبھال چکی ہے اور شاذ ہی کوئی ایسا بچا ہو جو اس مؤاخات کے فیض سے باہر رہا ہو یعنی خاندانوں کے سپرد بعض خاندان کر دیئے گئے ہیں، بعض کیمپ ہیں جو اس علاقے کی جماعتوں کے سپر د کر دئیے گئے ہیں۔ان سے تعلق رکھا جا رہا ہے ان کو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ صرف محبت سے ہی نہیں جیتا جا رہا، دین کی ٹھوس تربیت کا انتظام کیا جا رہا ہے۔نمازیں سکھانا بچوں کے لئے بھی بڑوں کے لئے بھی ، روز مرہ کے دینی زندگی کے سبق دینا اور پھر اجتماعات میں ان کے سپر د عہدے کرنا، ان کے سپر د ذمہ داریاں کر کے ان کو ساتھ لے کر آگے بڑھنا، ان کو اسلامی طریق کے نعرے سکھانا ، بعض چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی ہیں مگر واقعۂ دلوں میں ہنگامہ برپا کر دیتی ہیں۔تو وہ اب جب عربی طریق پر یا اردو کے الفاظ میں خاص مواقع پر خدا کی حمد کریں گے، خدا کا ذکر بلند کریں گے۔تحمید و تکبیر بلند کریں گے تو انشاء اللہ تعالیٰ اس کا بہت گہرا اور لمبا اثر پڑے گا۔تو ان سب کو اپنی دعاؤں میں یا درکھیں کہ یہ سارے تربیتی اجتماعات ہر پہلو سے کامیاب رہیں اور جو کمزوریاں رہ گئی ہیں اللہ تعالیٰ ان سے عفو کا سلوک فرمائے اور اس کے نتیجے میں جماعت نہ صرف مستحکم ہو بلکہ آئندہ تیزی سے آگے بڑھنے کی بنیادیں قائم ہوں۔ہر منزل جو ہم آگے بڑھتے ہیں ایک اور منزل کی خوشخبری دیتی ہے لیکن وہاں ہیں کیمپ مضبوط کرنا ضروری ہے کیونکہ ہمارا سفر بلندیوں کی طرف ہے۔اور بلندیوں کی طرف جو سفر ہوتے ہیں ان میں یہ ایک محاورہ ہے ” بیس کیمپ کو مضبوط بنانا جتنا ہمیں کیمپ مضبوط ہوگا اتنی ہی زیادہ آگے بلندی کی طرف حرکت کرنے کے سامان میسر آئیں گے، کم سے کم خطرات سے انسان زیادہ سے زیادہ سفر طے کر سکتا ہے۔تو ہم بلندیوں کی