خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 965 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 965

خطبات طاہر جلد ۱۲ 965 خطبہ جمعہ ۷ار دسمبر ۱۹۹۳ء طرف چڑھنے والے ہیں۔ہر منزل جو ہم جیتیں گے وہاں اب لا زما نہیں کیمپ بنانے ہوں گے اور ان کو جتنا مضبوط بنائیں گے اتنی ہی بلند تر چوٹی پھر آگے آپ کا انتظار کر رہی ہوگی۔میں امید رکھتا ہوں اسی طرح انشاء الله منزل بہ منزل اب یہ قافلہ جلد جلد بلندی کی طرف رواں دواں رہے گا اور بڑھتا چلا جائے گا۔ذکر کے سلسلے میں میں نے جو آیت آپ کے سامنے تلاوت کی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ کیا تو نہیں دیکھا کہ اللہ کی تسبیح کرتا ہے جو کچھ بھی ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور پرندے بھی صف به صف، یعنی ایک صف کے اوپر دوسری صف، پرندے بھی تسبیح کر رہے ہیں۔كُلِّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهُ وَ تَسْبِيحَهُ ہر ایک کو اپنی عبادت کا اور تسبیح کا انداز سکھایا گیا ہے اور وہ جان چکا ہے۔وَاللهُ عَلِيمٌ بِمَا يَفْعَلُونَ اور اللہ تعالیٰ اس چیز کو جو تم کرتے ہو خوب جانتا ہے۔ذکر کے سلسلے میں حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا انداز ذکر پیش کیا جا رہا ہے کہ آپ نے ہمیں کس طرح ذکر کرنا سکھایا۔یہ بہت وسیع مضمون ہے مگر جو چند احادیث میں نے منتخب کی تھیں ان میں سے جو باقی ہیں وہ میں آج آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔لیکن اس سے پہلے میں امراء القیس کا ایک شعر آپ کو سنا تا ہوں جس کا ذکر ہی کے مضمون سے عملاً تعلق ہے۔اس کا ذکر اور طرح کا تھا اور مومن کا ذکر اور طرح ہوتا ہے لیکن ذکر کا مضمون ملتا جلتا ہی ہے۔وہ کہتا ہے کہ قفا نبك من ذكر حبيـب و منزل بسقط اللواء بين الدخول فحومل کہ اے میرے دو ساتھیو ! قفا تم ذرا ٹھہرو۔نبک من ذکر حبیب و منزل ہم کچھ دیر اپنے محبوب کے ذکر سے اور اس کی منزل کے ذکر سے رونہ لیں۔ذرا ٹھہراؤ۔کچھ دیر رکواؤ۔کہ ہم اس کا پیاراذ کر چھیڑ کر کچھ آنسو بہاتے ہیں۔بسقط اللواء وہ منزل ایک ایسی جگہ واقع ہے۔جیسے بسقط اللواء کہا جاتا ہے اور دخول اور حول دو مقامات کے درمیان واقع ہے۔شعراء کا عموما یہی طریق ہے کہ جہاں جہاں محبوب کے آثار دیکھتے ہیں۔وہاں ٹھہرتے ہیں اور عام یادوں سے بڑھ کر ان مقامات پر محبوب کی یاد آتی ہے۔پس جیسا کہ اس شعر سے ظاہر ہے کہ یاد کے ساتھ آنسو بھی بہتے ہیں۔جہاں تک ذکر الہی کا تعلق ہے وہاں کسی ایک منزل کا سوال نہیں جو ذکر کی طرف آپ کی توجہ پھیرے۔خدا تعالیٰ تو ہر جگہ جلوہ دکھا رہا ہے اور ہر جلوہ اس شان کا ہے کہ ناممکن ہے کہ آپ کسی