خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 948 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 948

خطبات طاہر جلد ۱۲ 948 خطبه جمعه ۱۰/ دسمبر ۱۹۹۳ء ہی کی ہے اور کسی چیز کی نہیں ہے۔ایک شخص جتنا فقیر ہوا تنازیادہ دینے والے کو اس پر رحم آتا ہے۔جتنا ننگا ہو، جتنا بے اختیار ہو، بھوکا ہو کچھ بھی اس کے پاس نہ ہو۔جتنی زیادہ بے بسی کی بے اختیاری کی حالت پائی جاتی ہے اتنا ہی دیکھنے والے کو رحم آتا ہے اور امر واقعہ یہ ہے کہ بعض دفعہ سنگ دل آدمی بھی کسی کو ایسی بدحالت میں دیکھتے ہیں کہ کچھ نہ کچھ نکال دیتے ہیں۔توالحمد للہ بہترین دعا ہے، اس کے جو حقیقی معنی میں سمجھتا ہوں وہ یہ کہ اگر تم غور کرو تو تمہاری حمد ہے ہی کوئی نہیں۔تم ہر چیز سے عاری ہو۔اللہ نے جو کچھ دے دیا تھوڑا بہت اسی پر ناز کرتے پھرتے ہو تمہارا اپنا کچھ بھی نہیں ہے۔اگر ان معنوں پر غور کرتے ہوئے دل کی گہری سچائی سے بے اختیار تمہارے دل سے چیخ اٹھے کہ اے اللہ مجھ میں کچھ بھی نہیں ہے۔سارے جہان میں کوئی قابل تعریف بات نہیں ہے مگروہ جو تیری ذات سے اس کو عطا ہوئی اور جس میں تیری ذات جھلکتی ہے۔پس الحمد للہ تمام تر تعریف کلیۂ کامل تعریف ہر چیز تعریف سے تعلق رکھنے والی۔تیری ہے ہماری کچھ بھی نہیں ہے۔جب ایک عارف باللہ دل کی گہرائی سے یہ اقرار کرتا ہے تو یہ اقرار اس میں شامل ہے کہ میں تو بالکل ننگا ہو گیا ہوں میرے پاس تو کچھ بھی نہیں رہا میں تو نہتا ہو گیا۔ہر تعریف میں دل کی گہرائی سے سوچ سمجھ کر یقین سے تیرے پاک نام کی قسم کھا کر کہتا ہوں تجھ میں ہے اور مجھ میں کچھ بھی نہیں۔اس حالت میں اپنے وجود کو جب وہ خدا کے سامنے پیش کرتا ہے تو اس پر رحم ایک لازمی بات ہے۔انسان جب ایک دوسرے پر اس حالت میں رحم کر دیتے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ تو بہت ہی رحیم وکریم اور رحمن و رحیم ہے۔تبھی اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ کے بعد الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ کا ذکر ہے کہ وہ لوگ جو حقیقت میں اللہ کی تعریف کرتے ہیں اور دنیا کو تعریف سے خالی کرتے ہیں۔اچانک وہ دیکھیں گے کہ ان کا رب بہت رحم کرنے والا اور بہت ہی رحیم ہے۔بار بار رحم کرنے والا ہے۔تو آنحضور صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے جہاں جہاں بھی ذکر فرمایا ہے اس کا سرسری مطالعہ نہ کیا کریں بلکہ گہرائی میں اتر کر دیکھیں۔تو مضامین کے جہاں ان میں پوشیدہ دکھائی دیتے ہیں۔ایک اور حدیث ہے مسلم کتاب الذکر سے لی گئی ہے۔عن ابى موسیٰ رضی الله تعالى عنه قال كنا مع النبي صلى الله عليه وعلى آله وسلم في سفر فجعل الناس يجهرون بالتكبير