خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 947 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 947

خطبات طاہر جلد ۱۲ 947 خطبه جمعه ۱۰/ دسمبر ۱۹۹۳ء گیا۔اس کی وجہ یہی ہے کہ نماز در حقیقت سب سے اعلیٰ دعا ہے اور اس دعا کا طریق سورۃ فاتحہ ہمیں بتاتی ہے۔سورۃ فاتحہ کے ذریعے دعا کامل ہوتی ہے۔لیکن اگر صرف لفظ یعنی پہلا جملہ الحمد للہ کو ہی یہاں منطوق سمجھا جائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا منشاء سمجھا جائے تو پھر اس کا یہ مطلب بنے گا کہ حمد کے سوا کوئی دعا قبول نہیں ہو سکتی۔تو جب مانگتے ہوتو تعریف کرنا ضروری ہے۔یہاں ایک انسانی فطرت میں جو جو ہر پایا جاتا ہے اس کی طرف اشارہ ہے اور چونکہ قرآن کریم میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو صحیح فطرت، اپنی فطرت پر پیدا فرمایا ہے۔اس سے یہ مطلب نکلتا ہے کہ ہم اگر اپنی فطرت کو جو پاک حالت میں ہو بگڑی نہ ہو اس کو پہچان لیں، اس پر غور کریں تو اللہ تعالیٰ سے تعلقات کے راستے دکھائی دینے لگیں گے۔اللہ تعالیٰ سے تعلقات کے صحیح طریق سمجھ آنے لگیں گے۔جن معاملات میں انسانی تعلقات مضبوط ہوتے ہیں جس طریق پر مضبوط ہوتے ہیں۔جن معاملات میں انسانی تعلقات کاٹے جاتے ہیں جن طریق پر کاٹے جاتے ہیں۔اگر انسان اپنے نفس میں ڈوب کر غور کرے تو اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے تعلقات استوار کرنے کا گر سیکھ سکتا ہے اور یہ بھی سمجھ سکتا ہے کہ میں کیا کروں گا تو اللہ سے تعلق کا ٹا جائے گا۔الحمد لله کا مضمون تو ہر فقیر ہی نہیں بلکہ ہر شخص جانتا ہے۔جس نے کسی سے کچھ طلب کرنا ہو اس کی تعریف کرتا ہے۔ایک عاشق اپنے محبوب کے حسن کی تعریف کرتا ہے حالانکہ محبوب جانتا ہے شاید اس سے بھی زیادہ اس کو حسن پر زعم ہو جو عاشق جانتا ہو۔لیکن پھر بھی وہ تعریف کرتا ہے۔ایک فقیر جس کے سامنے ہاتھ پھیلاتا ہے اس کی تعریف کرتا ہے۔پس اگر دنیا کے تعلقات میں تعریف طلب کے ساتھ ایک لازمی تعلق رکھتی ہے ایک اٹوٹ تعلق رکھتی ہے۔تو اللہ سے طلب کرتے وقت حمد کو نہ بھولنا۔الحمد ہی میں تمہاری دعاؤں کی قبولیت کا راز پایا جاتا ہے۔یہ تو ہے پہلا سطحی معنی لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ میرے نزدیک الحمد للہ میں محض یہ تعریف نہیں ہے جس کا ہم روز مرہ انسانی تعلقات میں ذکر کرتے ہیں بلکہ ایک ایسی تعریف ہے جس کا انسانی تعلقات سے تعلق ہی نہیں ہے۔سطحی طور پر یہ بات درست ہے جو میں نے عرض کی ہے لیکن زیادہ گہرائی میں عارف باللہ کو اس کے پیچھے ایک اور بات دکھائی دیتی ہے۔وہ یہ ہے کہ حم حقیقت میں خدا