خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 826
خطبات طاہر جلد ۱۲ 826 خطبه جمعه ۲۹/اکتوبر ۱۹۹۳ء ذکر میں، میں نے آپ کا ذکر بھی کر دیا ہے تو میرے نزدیک آپ بھی ان اجتماعات کی فہرست میں شامل ہیں دیگر انصار اللہ اور لجنہ بھی اسی طرح شامل ہیں۔ان سب کو میری ایک نصیحت یہ ہے کہ اس دفعہ جلسہ سالانہ پر عالمی بیعت کے بعد میں نے نصیحت کی تھی کہ آپ اگلے تین ماہ تربیت کی طرف توجہ دیں۔میرے خیال میں مجھے نہیں یاد کہ اس سے پہلے کبھی جماعت کی طرف سے بیعت کرنے والوں کے لئے اس قسم کی سکیم کا آغاز کیا گیا ہو۔تمام دنیا میں مسلسل با قاعدہ منصوبے بنا کر ساری جماعتیں نو مبائعین کو اپنے اندر جذب کرنے اور ان کی تألیف قلب کے لئے پروگرام بنائیں اور ان کی تربیت کریں۔اب جبکہ یہ وقت تقریبا ختم ہو چکا ہے۔جو رپورٹیں مل رہی ہیں ان سے اندازہ ہوا ہے کہ اس طرح عالمی بیعت کی تحریک ایک الہی تحریک تھی خدا کے فضل سے یہ تحریک بھی غیر معمولی طور پر برکت پاگئی ہے اور محسوس ہوا ہے کہ اس کی شدید ضرورت تھی۔اس لئے یقینا یہ اللہ تعالیٰ کی تائید سے ہی دل میں تحریک ڈالی گئی اور از خود پیدا ہونے والا کوئی خیال نہیں ہے۔جن تجربات کی اطلاعیں ملی ہیں ان کو پڑھ کر جہاں بے حد خوشی ہوئی وہاں افسوس بھی ہوا کہ کاش پہلے ہم اس طرف توجہ کرتے تو بہت سے لاکھوں میں احمدی ہونے والی جماعتیں رفتہ رفتہ ضائع نہ ہو جاتیں۔شدت سے محسوس ہوا کہ جو بیعت کرتے ہیں ان کی تربیت کا تو آغاز ہوتا ہے۔یہ سمجھ کر کے احمدی ہو گئے ان کو اپنے حال پر چھوڑ دینا بہت بڑا ظلم ہے کیونکہ ہر ملک میں مختلف قسم کی رسوم رائج ہیں، مختلف قسم کی مذہبی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں ، چھوٹے چھوٹے مسائل میں بھی اور بڑے بڑے مسائل میں بھی جب تک باقاعدہ مستقل رابطہ کر کے ان کی تربیت کا انتظام نہ کیا جائے ،بعض غلطیاں ایسی جڑ پکڑ جاتی ہیں کہ پھر ان کا اکھیڑنا مشکل ہو جاتا ہے۔چنانچہ جب میں غانا دورے پر گیا تھا تو بعض پرانی جماعتوں میں جہاں پیدائشی طور پر کثرت سے احمدی موجود تھے۔وہاں بھی ایسی پرانی بعض بدر سمیں پائی گئیں جن کے متعلق مجھے حیرت ہوئی کہ پہلے کیوں نہیں ان کو اکھیڑا گیا لیکن اس طرح وہ گہری ان کے اندر داخل ہو چکی تھیں اور احمدیت میں رہتے ہوئے ان کی جڑوں کو قائم رہنے دیا گیا جس کا نقصان یہ ہوا کہ ان کے ساتھ مجھے بھی بہت سرکھپائی کرنی پڑی، بہت سمجھانا پڑا اور بڑی مشکل سے پھر آخر وہ پرانے فرسودہ خیال ان کے دلوں سے نکالے۔تو ابھی جو دورے کئے گئے ہیں ان کی طرف سے رپورٹیں مل رہی ہیں کہ ہم تو لرز گئے یہ