خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 827 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 827

خطبات طاہر جلد ۱۲ 827 خطبه جمعه ۲۹/اکتوبر ۱۹۹۳ء دیکھ کر کہ اگر ہم ان کو چھوڑ دیتے تو ان جماعتوں بے چاروں کا بننا کیا تھا ؟ ایمان تو لے آئے لیکن بعض بدر میں ، بعض بیوقوفوں والے خیالات ، بعض چھوٹی چھوٹی باتوں کو دین میں ایسی اہمیت دینا ، جن کی دین میں گنجائش ہی کوئی نہیں۔وہ ابھی تک اسی طرح تھے یعنی یہ خیالات ، یہ بدر سمیں، یہ پست چھوٹی چھوٹی باتوں کو اہمیت دینے کے رجحان ، یہ اسی طرح موجود تھے۔چنانچہ ان مہمات کے نتیجے میں اللہ کے فضل سے حیرت انگیز کامیابیاں ہوئی ہیں ان علاقوں کی کایا پلٹ گئی ہے۔پھر میں نے یہ تحریک کی تھی کہ آئمہ کو اور ان کے لیڈروں کو اپنے پاس بلائیں اور ان کو سکھائیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کریم نے یہی طریق تربیت کا سکھایا ہے کہ کیوں نہیں ہر علاقے سے جہاں اسلام پھیلتا ہے ایک فرقہ مرکز میں نہیں پہنچتا۔پہنچنا چاہئے ، وہاں پہنچیں۔تفقہ فی الدین حاصل کریں اور پھر واپس لوٹیں۔ظاہر ہے کہ یہ ایمان لانے والوں پر صادق آنے والا کلام ہے، غیروں سے تو خطاب نہیں کیا جا رہا۔قرآن کریم نے تو چودہ سو سال پہلے خوب کھول کر سمجھا دیا تھا۔جہاں جہاں اسلام پھیلے گا اس پر اطمینان نہ کر لینا، لازم ہے کہ ان کے نمائندے مرکز میں پہنچیں اور تربیت حاصل کریں اور پھر واپس جا کر اپنی قوم کو دین سکھائیں۔اس پہلو سے یہ سلسلہ بھی اللہ کے فضل سے بہت سے ممالک میں جاری ہوا اور بہت ہی نیک نتائج اس کے ظاہر ہوئے لیکن جہاں جہاں ابھی یہ کام نہیں ہو سکے۔میں ذیلی تنظیموں کو خصوصیت سے متوجہ کرتا ہوں کہ وہ تربیت کے معاملے میں جماعتوں کا ہاتھ بٹائیں اور اپنے امراء کو پیشکش کریں اور جو حصہ امراء تربیت کے سلسلے میں ان کے سپر د کریں اس میں وہ آگے بڑھ کر شوق سے حصہ لیں اور اپنے اجتماعات میں لا زما نومبائعین کو ضرور شامل کیا کریں اور ان کی تربیت کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ ان کے اوپر ذمہ داریوں کے بوجھ ڈالنے شروع کریں۔جو شروع میں شائد بوجھ لیں پھر بہت ہلکے محسوس ہوں گے اور ان کو نظام کا با قاعدہ حصہ بنا ئیں اگر اس طرح آپ انجذاب کا کام کریں گے یعنی جذب کرنے کا انتظام کریں تو دیکھتے دیکھتے یہ ایک صالح خون کی طرح آپ کے پاک وجود کا حصہ بن جائیں گے۔اگر ایسا نہیں کریں گے تو نظام از خودان کو دھکا دے کر باہر نکالے گا جو وجود نظام میں ہضم نہ ہو سکے، جذب نہ ہو سکے۔اگر اسے نظام باہر نہ نکالے تو وہ نظام فاسد ہو جاتا ہے۔یہی قرآن کریم سے روحانی نظام سے متعلق پتا چلتا ہے