خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 825
خطبات طاہر جلد ۱۲ 825 خطبه جمعه ۲۹/اکتوبر ۱۹۹۳ء کی خاطر کسی نیکی سے رک جانا بعض دفعہ اس سے بھی بڑی نیکی بن جاتی ہے چنانچہ فرمایا کہ ہم تجھ سے یہ سلوک کرتے ہیں کہ تیسر ا صرف ماضی کی غلطیاں ہی یا بشری کمزوریوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ایسی صورتیں جن سے تجھے تکلیف پہنچی ہو وہی معاف نہیں کی جاتی بلکہ آئندہ ہمیشہ کے لئے تمام غلطیاں معاف کی جارہی ہیں۔اتنی بڑی جزا ایک ایسی نیکی کی ہے کہ جو کی نہ جاسکی۔لیکن دنیا کی نظر میں جو نیکی نہ کی جاسکی اگر نیتوں میں خدا ہی خدا ہو اور اس نیکی سے روکنا بھی خدا ہی کی خاطر ہوتو عملاً یہ نیکی شمار ہو جاتی ہے۔پس مجلس خدام الاحمدیہ ہو یا انصر اللہ یا دوسری ذیلی تنظیمیں یا صدرانجمن جو اپنے جلسوں کی درخواستیں دیتی چلی جارہی ہے اور ہر دفعہ مایوسی ہوتی ہے۔پاکستان کی ایسی تمام مرکزی تنظیموں کو میں متوجہ کرتا ہوں آپ کی نیکی رائیگاں نہیں گئی۔آپ جن جلسوں اور اجتماعات سے محروم کئے گئے ہیں یہ آپ کے محرومی کے نتیجے میں درد کا فیض ہی ہے جو ساری دنیا میں عام ہو رہا ہے۔ایک جلسہ سالانہ پر کتنے احمدیوں کو توفیق ملا کرتی تھی حاضر ہونے کی اور ایک اجتماع پر کتنے احمدیوں کو حاضر ہونے کی توفیق ملا کرتی تھی۔اب دیکھیں ہر جمعہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس سے آٹھ دس گنا زیادہ احمدیوں کو بیک وقت مرکزی خطابات سننے کا موقع مل رہا ہے اور اسی طرح دیگر اجتماعات کا حال ہے لیکن ساتھ ہی مجھے یہ خیال آیا کہ میں ان کو ایک ترکیب سوجھاؤں کہ اگر مجلس خدام الاحمدیہ، انصار الله، لجنہ اماءاللہ پاکستان کو یہ توفیق ہو تو جس طرح جرمنی کے خدام نے اپنے خرچ پر اپنے اجتماع کو ساری دنیا کا اجتماع بنایا تھا اس طرح آپ بھی کوشش کر لیں۔اگر توفیق ہو ان دنوں میں ہم یہاں آپ کی طرف سے سالانہ اجتماع بنا دیا کریں گے اور آپ ویڈیو بنا کر اپنے ان مقررین کی جن کو آپ کو شامل کرنا چاہتے ہیں ، خواتین تو نہیں ہو سکیں گی مگر باقی ہو سکتے ہیں۔وہ بھیج دیا کریں، چند ویڈیو آپ کی چلیں گی ایک مرکزی تقریر میں کر دیا کروں گا۔اس طرح آپ کا سالانہ اجتماع بجائے اس کے کہ آپ کو ہر دفعہ یہ خیال ہو کہ نہیں ہوا، ڈپٹی کمشنر نے روک دیا ہے، پھر یہ کہنے کی بجائے آپ کہیں گے کہ ایک ڈپٹی کمشنر کیا ہزار ڈ پٹی کمشنر بھی اس اجتماع کو روک نہیں سکتے جو خدا کی اجازت سے کیا جارہا ہو جسے اللہ کی تائید حاصل ہو۔وہ ایک شہر کا ، ایک ملک کا اجتماع نہ ہو بلکہ ساری دنیا کا اجتماع بن جائے۔پس آپ کے اجتماع اس طرح ساری دنیا میں عام ہو جائیں گے اور ابھی بھی اللہ کے فضل سے دیگر اجتماعات کے