خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 784
خطبات طاہر جلد ۱۲ 784 خطبه جمعه ۸/اکتوبر ۱۹۹۳ء اگر بدیوں سے تمہاری محبت بڑھ رہی ہے تو لازماً تم اللہ سے غیر اللہ کی طرف جارہے ہو اور روزانہ ہم اپنی بدیوں کو جانتے پہچانتے ہیں ہمیں پتا ہے کہ ہمارے اندر کیا کمزوریاں ہیں اور وہی اندھیرے ہیں جہاں سے نکل کر اگر ہم دوسری طرف حرکت کریں گے تو اندھیروں کے مقابل پر ہر طرف خدا ہی کی ذات ہے۔ان معنوں میں وہ محیط ہے۔کسی بھی اندھیرے سے آپ نکلیں گے تو خدا کی ذات نظر آئے گی کیونکہ وہ روشنی ہے، اندھیرے سے نکلے کا مضمون یہ ہے کہ روشنی کی طرف جائیں۔پس ان معنوں میں تبتل کے مضمون کو سمجھ کر اپنی ذات پر چسپاں کریں۔اپنی بدیوں کو روزانہ دیکھیں ، اپنی کمزوریوں کو دیکھیں، نمازوں میں سستی ہو جاتی ہے۔سنتی کیوں ہوتی ہے؟ کبھی غور کریں تو پتا چلے گا کہ تبتل نہیں ہوا۔نماز کے مقابل پر ایک چیز زیادہ پسندیدہ ہے اور اس پسندیدہ چیز کو چھوڑا نہیں جاتا۔آنحضرت کی کیفیت اس کے برعکس تھی۔آپ ﷺ کے متعلق روایت میں آتا ہے کہ آپ جب نماز چھوڑ کر دوسرے کاموں میں جاتے تھے تو دل نماز میں اٹکا ہوا ہوتا تھا۔ہم عام انسان ایسے ہیں کہ خواہ عبادت کے کسی مقام پر بھی ہوں ہم میں ، ہماری ذات میں ، ہمارے مشاہدہ میں ضرور ایسے مواقع آتے ہیں کہ نماز خدا کے حضور ادا کر رہے ہیں اور دل کہیں اور اٹکا ہوا ہے اور بار بار خیالات کو کھینچ کر اس طرف لے کر جاتا ہے تو تجبل ہوا انہیں تو نماز کیسے قبول ہوگی۔پہلے جو دنیا کے دھندے ہیں ان سے چھٹکارا نصیب ہوگا تو پھر اللہ کے دھندوں سے تعلق پیدا ہو گا۔ایک چھوٹی سے مثال آپ کے سامنے رکھی ہے لیکن یہ ایسی مثال ہے جس پر اگر غور کریں تو ایسی بکثرت مثالیں آپ اپنی زندگی میں وارد ہوتی روز مرہ دیکھیں گے اور آسانی کے ساتھ اپنی حالت کو خوب پہچان سکتے ہیں۔کسی باہر سے آنے والے کی ضرورت نہیں کہ آکر شناخت کرے۔آپ کے دل میں آپ کا ایک آئینہ ہے جو آپ کی تصویر دکھا رہا ہے اور اگر آپ نے اس تصویر کی طرف توجہ نہ کی تو وہ نقش پکے ہوتے چلے جائیں گے۔یہ وہ خطرہ ہے جس سے میں آپ کو مطلع کرنا چاہتا ہوں۔ایک ایسا شخص جو تصویر میں دیکھ رہا ہے اور اپنے داغوں کو پہچانتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ ان داغوں سے نجات پائے ، وہ اگر نامکمل حالت میں بھی مرگیا تو اس کی ہجرت خدا کی طرف ہو رہی ہوگی اور اس کے لئے امن کا پیغام ہے لیکن ایک شخص جو داغوں کو دیکھتا ہے اس کو فکر پیدا نہیں ہوتی۔اس کے داغ ضرور بڑھتے ہیں اگر وہ اپنے گھر میں گند دیکھتا ہے اور گند دور کرنے کی کوشش نہیں کرتا تو کچھ دنوں کے بعد وہ گھر گند کا انبار بن جاتا