خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 783
خطبات طاہر جلد ۱۲ 783 خطبه جمعه ۸/اکتوبر ۱۹۹۳ء ہے کیونکہ اس موقع کے لئے ہی ہے۔مراد یہ ہے کہ اگر اس دنیا میں خدا سے تمہارا تعلق قائم ہو گیا تو پھر اس دنیا میں جو تعلق قائم ہو گا وہ اس سے بہت زیادہ لذیذ بن کر ظاہر ہو گا جو تم اس دنیا میں چکھ چکے ہو۔بظاہر یہی کہو گے کہ ہم نے پہلے بھی یہ چکھا ہے لیکن اللہ تعالیٰ فرمائے گا نہیں تم نہیں جانتے یہ تو بالکل اور چیزیں ہیں، ویسی ہیں ملتی جلتی ہیں لیکن اپنی کیفیت اور کمیت اور لذتوں کے لحاظ سے گویا زمین آسمان کا فرق ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جہاں خدا سے تعلق کا مضمون بیان فرمایا وہاں پہلے دنیا سے عدم تعلق کا مضمون بیان فرمایا ہے اور اسی کا نام تبتل الی اللہ ہے کیونکہ ایک تعلق کے ہوتے ہوئے دوسرا تعلق ہو نہیں سکتا۔ہر معاملہ میں موازنہ ہوتا ہے۔ایک طرف سے دوسری طرف حرکت کرنے کے لئے لازم ہے کہ دوسری طرف کا تعلق غالب آجائے اور ایک طرف کا تعلق مغلوب ہو جائے۔یہ قانون قدرت ہے کسی انسان کے اندر طاقت ہی نہیں کہ جس میں تبدیلی پیدا کر سکے۔اگر کسی سے محبت ہو جاتی ہے تو اس کے مقابل پر جو چیز آئے گی اور اس تعلق کی راہ میں حائل ہوگی اس سے ویسی ہی نفرت پیدا ہوگی۔نصیحت کرنے والے لاکھ نصیحتیں کریں اگر ایک انسان کو کسی سے محبت ہے اور ناصح اس محبت کی راہ میں حائل ہوتا ہے تو عام حالات میں آپ نصیحت کا شکر یہ ادا کرتے ہیں کہ بہت بہت شکریہ۔جزاک اللہ۔بڑی اچھی بات کی لیکن اگر وہ آپ کی محبت کی راہ میں حائل ہوتا ہے تو آپ اس کو ایسی نفرت سے دیکھتے ہیں، یہ سمجھتے ہیں کہ یہ تو میرا سب سے بڑا دشمن ہے۔اس بد بخت کو کیا ضرورت پڑی ہے کہ میرے تعلقات کے معاملات میں دخل دے۔پس تجمل دوسرے تعلق کے لئے ضروری ہے اور جتنا تعلق بڑھے گا اتنا تنبتنل آسان ہو جائے گا۔جتنا نتل زیادہ ہوگا اتنا دوسرے تعلق کے قائم ہونے کے امکانات زیادہ روشن ہوتے چلے جائیں گے۔پس اس پہلو سے جس دنیا میں ہم رہ رہے ہیں اس میں ہم روزانہ اپنا امتحان بھی کر سکتے ہیں اور اپنے آپ کو دیکھ بھی سکتے ہیں اگر ہم ذراسی ہوش پیدا کر لیں تو ہمارے اندر وہ آئینے موجود ہیں جن میں ہماری روزانہ جو شکل بن رہی ہے وہ دکھائی دے سکتی ہے۔خدا سے ملے کہ نہیں ملے یہ مضمون اگر مہم رہے گا تو آپ کو کچھ بھی پتا نہیں چلے گا کہ کیا ہو رہا ہے لیکن سبحان اللہ کے مضمون نے ہمیں بتا دیا کہ یہ تو بڑا آسان مضمون ہے۔اگر تم بدیوں سے متنفر ہور ہے ہو تو تم لا ز ما تبجبل اختیار کر رہے ہو۔