خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 74
خطبات طاہر جلد ۱۲ 74 خطبه جمعه ۲۲ جنوری ۱۹۹۳ء بار بار اخبارات میں لکھ کر اور لیڈروں سے مل کر ان کو سمجھانا چاہیے کہ ہم بڑے نازک دور سے گزر رہے ہیں۔آج اگر ہم نہ سنبھلے تو کل جو حالات پیدا ہونے والے ہیں اور مجھے دکھائی دے رہے ہیں ان میں اس سے زیادہ خوفناک عالمی جنگوں میں انسان کو جھونکا جائے گا جس کے تصور سے بھی آج ہمارے رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں۔پہلی جنگ عظیم اور دوسری جنگ عظیم کی تو کوئی حیثیت ہی نہیں رہے گی اس جنگ کے مقابل پر جس کی تیاری آج امریکہ تمام دنیا کے لئے کر رہا ہے۔یہ چند دن کے قصے، چند دن کی پھلجھڑیاں ہمیشہ کی روشنیاں پیدا نہیں کیا کرتیں۔ان پھلجھڑیوں سے آگیں بھی لگ جایا کرتی ہیں۔ہمیشہ کی روشنی تقوی اور سچائی سے پیدا ہوتی ہے۔آج انسان ظلمات میں بھٹک رہا ہے، اس کا مستقبل روشن کرنے کے لئے سچائی کے دیپ جلانے ہوں گے اس نور سے تعلق باندھنا ہوگا صلى الله جس کے متعلق اللہ نے فرمایا کہ لَاشَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّة ( النور :۳۶) ایک محمد رسول اللہ ﷺ کا نور ہے جس میں یہ طاقت ہے جو اس لئے بنایا گیا ہے کہ وہ مشرق کا بھی ہو اور مغرب کا بھی ہو۔نہ اس میں مشرق کے لئے کوئی بعد ہے نہ مغرب کے لئے بعد ہے۔نہ وہ مشرق کا ہو رہا ہے نہ مغرب کا ہو رہا ہے۔وہ سب میں سانجھا خدا کا واحد نور ہے۔اسی نور سے آج دنیا کی ہمیشہ کی بھلائی وابستہ ہو چکی ہے۔دنیا کو اس نور کے بغیر کبھی ہاتھ کو ہاتھ تک سمجھائی نہیں دے گا۔اور بڑی بڑی تو میں جو اپنی عقل کی بلندیوں سے فیصلے کرنے والی ہیں جو یہ کہتی ہیں کہ ہم اپنی عقل کی روشنی سے فیصلے کر رہی ہیں، ایسے فیصلے کر رہی ہیں جو یوں معلوم ہوتا ہے کہ اندھے نے اندھیرے میں راہ ٹولتے ہوئے فیصلے کئے ہیں اور غلط کئے ہیں۔ایسے گڑھوں میں پاؤں ڈال رہا ہے جن گڑھوں میں ہلاکت ہی ہلاکت ہے۔پس حقیقت کی بات کر رہا ہوں کہ سچائی کا نور تقویٰ کا نور ہے۔سچائی کے نور کے بغیر دنیا کی کوئی چالا کی کام نہیں آیا کرتی۔مجھے وہ غلطیاں دکھائی دے رہی ہیں۔ان کے نتائج نظر آرہے ہیں جو آج بڑی بڑی تو میں کر رہی ہیں اور ان کو پتا نہیں کہ کل ان کا کیا انجام ہوگا۔یہ ویسی ہی غلطیاں ہیں جو پہلے کر چکے تھے۔یہ ویسی ہی غلطیاں ہیں جن کے نتیجہ میں بہت خوفناک جنگوں میں یہ جھونکے جاچکے ہیں۔ان کی پٹاری سے کوئی نئی غلطیاں نہیں نکل رہیں۔وہی نا انصافی کی غلطیاں ہیں۔وہی تکبر کی غلطیاں ہیں وہی بیوقوفی کی تعلی کی غلطیاں ہیں۔پھر دہراتے چلے جارہے ہیں اور پھر دہراتے چلے جارہے ہیں۔اگر ان کے مقدر میں کوئی ہلاکتیں لکھی گئی