خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 75 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 75

خطبات طاہر جلد ۱۲ 75 خطبه جمعه ۲۲ / جنوری ۱۹۹۳ء ہیں تو وہ تو ہم نہیں مٹا سکتے۔ان کو تو ہم تبدیل نہیں کر سکتے۔مگر اے عالم اسلام ! اپنا نصیب تو جگاؤ ، اپنا مقدر تو روشن کرو اور تمہارا مقدر محمد مصطفی ﷺ کے قدموں میں روشن ہوگا۔ان قدموں سے لپٹ کر روؤ۔خدا کو محمد مصطفی ﷺ کی محبت کے واسطے دے دے کر روڈ اور خدا سے آسمان سے وہ نور اپنے لئے طلب کرو جس کی روشنی میں نہ صرف یہ کہ تمہارے مقدر جاگ اٹھیں گے بلکہ تمام دنیا کا نصیب جاگ اٹھے گا۔آج دنیا کی بقا اور دنیا کی بہبود تم سے وابستہ ہو چکی ہے۔اے محمد مصطفی ﷺ کے غلامو! اٹھو اور اس نصیب کے لئے اپنے آپ کو صاف تو کرو، پاک تو بناؤ۔یہ نور گندے ناپاک دلوں میں نہیں اتر سکتا، اپنے کردار کی کیوں فکر نہیں کرتے ، اپنے دلوں کی کجیاں کیوں دور نہیں کرتے ، اگر تمہارے دلوں میں گناہوں کے اندھیرے اسی طرح موجزن رہیں گے تو خدا کی قسم محمد رسول اللہ ﷺ کا نور آپ کے صلى الله دلوں میں جھانکے گا بھی نہیں۔باتیں کرتے ہو محمد رسول اللہ ﷺ کے عشق اور محبت کی لیکن اپنے دلوں کو اندھیروں کی آماجگاہ بنا رکھا ہے۔اس لئے عالم اسلام کی سیاست کو بھی میں پیغام دیتا ہوں کہ اپنی سوچوں کو صاف اور ستھرا کر کے اپنی خود غرضیوں کے خیالات کو دل سے بالکل کلیۂ دھو کر پاک کر ڈالے یا اپنے دلوں کو ان گندے خیالات سے دھو کر پاک کر ڈالے اور بہبود کی باتیں کرے۔انسانیت کی باتیں کرے۔محمد رسول اللہ ﷺ کے دین اور اس کی غیرت کی باتیں کرے اور علمائے اسلام کو میں دعوت دیتا ہوں کہ خدا کے واسطے دیکھیں اسلام اعلیٰ اخلاق میں ہے نہ کہ بدزبانیوں میں تم کب تک بدگوئیاں کرتے رہو گے کب تک تمہارے منہ سے غلاظت کی جھاگ ابل ابل کر اور اچھل اچھل کر فضا کو مکدر کرتی رہے گی۔محمد مصطفی ﷺ کی پاکیزہ زبان استعمال کرنی سیکھو۔وہ اعلیٰ اقدار اور اخلاق مسلمانوں میں قائم کرو جن کو لازماً جیتنا ہی جیتنا ہے۔کون ہے جو محمد مصطفی ﷺ کے اخلاق کو شکست دے دے۔کس ماں نے وہ بیٹا پیدا کیا ہے۔دنیا کی اربوں مائیں ایک بھی ایسا بیٹا نہیں پیدا کر سکتیں اور سارے مل کر بیٹا پیدا کریں تو وہ بھی محمد رسول اللہ ﷺ کی سنت کو شکست نہیں دے سکتا۔یہ جیتنے والی سنت ہے۔یہ غالب آنے والی سنت ہے۔اسی لئے کائنات کو پیدا کیا گیا تھا۔اسی سنت پر انسان کا نیک انجام ہوگا ور نہ بد انجام ہوگا۔پس میں کھلے الفاظ میں بغیر کسی بات کو چھپائے دنیا کی بڑی بڑی طاقتوں کو بھی