خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 757 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 757

خطبات طاہر جلد ۱۲ 757 خطبہ جمعہ یکم اکتو بر ۱۹۹۳ء أَلَا بِذِكْرِ اللهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ ) (الرعد: ۲۹) اللہ کے ذکر کے سوا تمہیں طمانیت نصیب نہیں ہوگی۔بیوی سے وقتی سکون مل جایا کرے گا۔تھکاوٹ دور ہو جایا کرے گی لیکن وہ طمانیت جواس حسن کامل تک پہنچنے سے آخری صورت میں نصیب ہو سکتی ہے، جس کا ایک نقش تمہاری فطرت میں موجود ہے اس کی تمہیں تلاش ہے لیکن پتا نہیں کہ وہ کیا ہے اور کہاں ہے اس کی طرف دوڑو۔خدا تعالیٰ کا صلى الله رسول ﷺ تمہارے سامنے اعلان کر رہا ہے کہ اس کے سوا تمہیں کہیں طمانیت نہیں ملنی۔اگر جوڑوں کے ساتھ اس طرح دل لگا کر بیٹھ رہو گے کہ وہی تمہاری خواہشات کا آخری مرجع بن جائیں گے یعنی انہی کی طرف خواہشات لوٹیں گی اور وہیں کھڑی ہوجائیں گی تو پھر تم ناکام رہوگے تمہیں کبھی حقیقی اطمینان نصیب نہیں ہوسکتا پس اللہ کے ساتھ جو انسان کا تصور وابستہ ہے وہ دراصل اسی قسم کا محبت کا تعلق ہے۔جس شخص سے یا جس چیز سے انسان حقیقت میں زیادہ محبت کرنے لگتا ہے وہی اس کا معبود بن جاتی ہے چنانچہ قرآن کریم نے ہمیں اس سلسلہ میں بھی متنبہ فرمایا ہے۔فرمایا کہ ایسے لوگوں کی طرح نہ بننا جو اپنی ھواء کو اللہ بنا لیتے ہیں، اپنے دل کی خواہشات کی پرستش شروع کر دیتے ہیں کیو نکہ خواہش کا انسان کے ساتھ عاشق اور معشوق کا سا جوڑ ہوتا ہے اور جتنی زیادہ خواہش بڑھے اتنی اس کو حاصل کرنے کی تمنا بڑھ جاتی ہے تو ہر شخص کے دل میں جو بت ہیں وہ ضروری نہیں کہ مجسم بت ہوں۔تمنائیں بت بن جاتی ہیں اور ان کے حصول کے لئے بعض دفعہ اتنی شدت دل میں پیدا ہو جاتی ہے اور ان کی کشش پیدا ہو جاتی ہے کہ ان کے بغیر انسان کو چین نہیں آتا۔یہ بات بالآخر انسان کو شرک تک پہنچا دیتی ہے۔فرمایا کہ دیکھ تم اپنی تمناؤں کی عبادت نہ کرنے لگ جانا۔تبتل الی اللہ کا مضمون اس مضمون سے تعلق رکھتا ہے قرآن جب کہتا ہے کہ اللہ کی طرف تبتل اختیار کر و قر آن جب کہتا ہے کہ فَفِرُّوا اِلَى اللهِ اللہ کی طرف فرار اختیار کرو تو اس کو سمجھنا چاہئے کہ کس چیز سے کس طرف فرار ہے۔اللہ کا وجود تو ہر جگہ ہے جس طرف آپ منہ پھیریں گے وہاں خدا دکھائی دے گا تو پھر فرار کیسا؟ کہاں سے؟ کس طرف کو فرار؟ اس مضمون میں ایک اور آیت جو پوری نہیں پڑھی گئی یہ بھی ہے صِبْغَةَ اللهِ وَمَنْ ہے أَحْسَنُ مِنَ اللهِ صِبْغَةَ وَنَحْنُ لَهُ عَبدُونَ (البقره: ۱۳۹) کہ اللہ کا ایک رنگ وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللهِ صِبْغَةَ اللہ سے زیادہ بہتر ، اللہ سے حسین تر رنگ اور کس کا ہوسکتا ہے