خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 758
خطبات طاہر جلد ۱۲ 758 خطبہ جمعہ یکم اکتو بر ۱۹۹۳ء وَنَحْنُ لَهُ عبدُونَ ہم تو اسی کی عبادت کریں گے، اسی کی عبادت کرنے والے ہیں۔یہاں بھی مفسرین اور مترجمین نے بہت احتیاط سے کام لیا ہے اور کوشش کی ہے کہ اللہ کی طرف رنگ منسوب نہ کریں جبکہ قرآن کر رہا ہے ان کی نیک نیت یہ ہوتی ہے کہ کوئی عام آدمی غلطی سے یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ خدا بھی کوئی رنگدار چیز ہے اور اس رنگ کو پکڑ و حالانکہ عام انسان روزمرہ کے محاورے میں رنگ کا مضمون سمجھتا ہے اس سے مراد اس کی فطرت کے نقوش ہیں اس کی ادائیں ہیں، اس کی اپنی شخصیت کا ایک رنگ ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی یہاں صبغۃ کا ترجمہ دین کیا ہے تا کہ عامتہ الناس اس مضمون کو سمجھ لیں۔دین بھی دراصل انسانی صفات کے مجموعہ کو کہا جاسکتا ہے اس کا اسلوب اس کا مسلک یہ سب دین کہلاتا ہے۔تو حضرت مصلح موعودؓ نے وہ لفظ چنا ہے جو رنگ کے قریب ترین ہے۔لیکن سیدھی صاف بات جو دکھائی دے رہی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کچھ مزاج ہے، اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں اس مزاج سے حسین تر کوئی مزاج نہیں، ان صفات سے زیادہ دلکش اور کوئی صفات نہیں ہیں ان کو اختیار کرو۔ان کو اختیار کرو گے تو پھر تم جس بنا پر جس رنگ میں تمہاری تخلیق فرمائی گئی ہے تم اس تخلیق کے درجہ کمال تک پہنچ جاؤ گے۔مطلب یہ ہے کہ ہر انسان کو فطرت پر پیدا فرمایا گیا ہے لیکن ہر انسان میں الہی رنگ دکھائی نہیں دے رہے۔اس لئے کہ یہاں اس فطرت کے اندر جو نقوش ہیں وہ ابھی چاہتے ہیں کہ ان میں رنگ بھرے جائیں۔بعض بچوں کی ایسی کتابیں ہوتی ہیں جس میں بظاہر صفحہ خالی ہوتا ہے اور کچھ دکھائی نہیں دیتا لیکن جب بچے ان پر مختلف رنگوں کی پنسلیں پھیرتے ہیں تو اندر سے نقوش اٹھنے لگتے ہیں اور دیکھتے دیکھتے وہ تصویر ابھر آتی ہے۔بچپن میں مجھے یاد ہے حضرت مصلح موعود غالباً بمبئی سے یا کسی سفر سے ایسی کھیلیں بچوں کے لئے لے آئے تھے اور ہم بہت حیران ہوا کرتے تھے کہ خالی صفحہ ہے مگر ایک خاص پنسل تھی جس کو اس پر بار بار پھیرنا پڑتا تھا اور پنسل کے پھیر تے پھیر تے اندر سے نقوش ابھر رہے ہوتے تھے اور بڑے خوبصورت نقوش ابھر آتے تھے۔تو یہ مراد ہے کہ تمہاری فطرت میں خدا کا نقش ہے تو سہی لیکن تمہاری نظر سے اوجھل ہے، غائب ہے۔وہ تمہارے لئے مٹ سا گیا ہے اور کسی کو دکھائی نہیں دیتا۔تم باشعور طور پر اللہ کے رنگ اس میں بھرو اور جب خدا کے رنگ بھرو گے تو اس فطرت میں سے ایک الہی نور نکلے گا خدا کی شکل تو