خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 756
خطبات طاہر جلد ۱۲ 756 خطبہ جمعہ یکم اکتو بر ۱۹۹۳ء بھیا نک خوفناک قسم کا کبڑا جس کے جسم کے سارے اعضاء ایک دوسرے سے الگ الگ ہیں یعنی ایک عضو کو دوسرے سے مناسبت نہیں ہے اور اس کا عشق درجہ کمال تک پہنچا ہوا ہے۔یہ کتاب چونکہ ایک خاص نفسیاتی نقطہ نگاہ سے لکھی گئی تھی اس لئے اس کا شمار عام ناولوں میں نہیں ہوتا بلکہ اس کو ناولوں کی دنیا میں اس وجہ سے ایک غیر معمولی اہمیت دی جاتی ہے کہ انسانی فطرت پر گہری نظر رکھتے ہوئے اس نے عاشق اور معشوق کا ایک موازنہ کیا ہے اور غور کرنے والے کے لئے اس میں بہت مواقع ہیں کہ محبت کے مضمون کو سمجھ سکے۔پس وہاں کیا جوڑ ہے بھلا ؟ لَيْسَ كَمِثْلِ شَيْءٍ میں جو مضمون ہے وہ کسی حد تک یہاں بھی مل رہا ہے لیکن جب خدا کہتا ہے لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٍ تو وہاں اس کبڑے کو حضرت مریم کے حسن سے جو مناسبت تھی اس سے بہت ہی زیادہ ، اتنی زیادہ دوری پیدا ہو جاتی ہے کہ آدمی اس کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا۔گوبر کے ایک کیڑے کو انسان سے کیسے محبت ہوسکتی ہے، مناسبت کوئی نہیں لگتی لیکن انسان اس کا خالق نہیں ہے اس لئے قدر مشترک نہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی ہر خلق میں اپنی کوئی چھاپ رکھی ہے اور جہاں تک انسان کا تعلق ہے اس کو اپنی فطرت پر پیدا فرمایا ہے اس کو اپنی صفات کے مشابہ ایسی صفات سب سے زیادہ دیں کہ ان صفات سے محبت کی صلاحیت پیدا ہوگئی ہے۔پس حسن کا وہ موہوم تصور جو اس کبڑے کے دل میں تھاوہ قدرمشترک تھی لیکن مماثلت کوئی نہیں تھی۔وہاں وہ حسن ایک خوبصورت پیکر کی صورت میں جلوہ گر تھا۔یہاں یہ حسن ایک مہم موہوم تصور کی صورت میں دل کے اندر بیٹھا ہوا ہے، جما ہوا ہے ،فطرت کا نقش بنا ہوا ہے۔اسی مضمون پر غور کرتے ہوئے پرانے فلسفیوں نے حسن کی ایک یہ بھی تعریف کی ہے کہ حسن اس چیز کو کہتے ہیں جو انسان واضح طور پر جانتا تو نہیں کہ کیا ہے لیکن یہ جانتا ہے یعنی اس کی فطرت میں یہ بات نقش ہے کہ اللہ کے قریب جو چیز ہے وہ حسین ہے اور جو اللہ سے دور ہے وہ بدصورت ہے۔پس خدا کے تصور کا حسن کے تصور کے ساتھ جو جوڑ ہے وہ انہی معنوں میں جوڑ ہے کہ خدا کا مثل تو نہیں لیکن ایک جوڑ ہے۔یہ وہی جوڑ ہے جو ہر انسانی فطرت میں موجود ہے اور ان معنوں میں ی فروا الی اللہ کا حکم ہے۔فرمایا گیا ہے جوڑوں کے ساتھ تمہارا تعلق ہو جائے گا، تمہاری محبتیں رہیں گی لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا (الروم:۲۲) تک فرمایا۔بیوی تمہارے لئے پیدا کی گئی اس لئے کہ تم اس سے سکینت حاصل کرو لیکن اطمینان نصیب نہیں ہو سکتا جہاں تک طمانیت کا تعلق ہے فرمایا