خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 677
خطبات طاہر جلد ۱۲ 677 خطبه جمعه ۳ ستمبر ۱۹۹۳ء کی مزید وضاحت کرتا ہوں۔فرماتے ہیں ” تو حید یعنی یہ کہ اس کے وجود کے مقابل پر تمام موجودات کو معدوم کی طرح سمجھنا یعنی دیکھتے ہوئے کہ چیزیں موجود ہیں لیکن اتنا عرفان رکھنا کہ یہ چیزیں اپنی ذات میں نہیں ہیں ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے محض خدا تعالیٰ کے اذن سے لٹکی چیزیں ہیں جہاں اذن ختم ہوا یہ چیزیں معدوم ہو گئیں ان کی کوئی بھی حقیقت باقی نہیں رہے گی۔یہ وہی مضمون ہے جس کے متعلق پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی کے کشف کی صورت میں میں نے بات جماعت کو سمجھائی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک صحابی جو پٹھان افغان مہاجر تھے۔بزرگ صاحب کہلاتے تھے۔بہت ہی بزرگ صاحب کشف والہام انسان تھے۔ان کے دل میں عجیب عجیب قسم کے سوال اٹھا کرتے تھے جن کو وہ براہ راست اللہ تعالیٰ سے پوچھ کر حل کیا کرتے تھے اور خدا تعالیٰ کا ان سے ایسا تعلق تھا کہ وہ ادھر سوال کیا ادھر اللہ تعالیٰ ان کو جواب بھی دے دیتا تھا۔ایک دفعہ انہوں نے یہ سوال اٹھایا کہ اے خدا تو کہتا ہے تو ایک ہے اور کوئی بھی نہیں یہ دنیا کیا ہے، ساری کائنات کیسی ہے؟ بے شمار حشرات الارض ہیں ان کو کوئی گن اور شمار نہیں کر سکتا۔بے شمار مخلوقات ہیں اور پھر کائنات تو اتنی وسیع ہے کہ ہمارا تصور بھی اس کے کناروں تک نہیں پہنچ سکتا۔پھر وہ ساری کائنات بے شمار ذروں پر مشتمل، اتنا بھاری وجود ہم دیکھ رہے ہیں جو بے شمار وجودوں میں منقسم ہے اور تو کہتا ہے کہ تیرے سوا اور کوئی وجود نہیں۔تو مجھے سمجھا تو سہی کہ یہ ہے کیا ؟ یعنی توحید ان معنوں میں کہ تیرے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔اس کا یقین میرے دل میں عرفان کے ساتھ پیدا فرما دے، یقین تو ہے مگر طمانیت قلب چاہتا ہوں۔اسی حالت میں آپ پر کشفی حالت طاری ہوئی۔آپ نے دیکھا کہ ایک کلاس روم میں بیٹھے ہوئے ہیں اور سامنے Black Board کے ساتھ اللہ تعالیٰ کھڑا ہے اور استاد بن کر ان سے گفتگو فرمارہا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ان سے کہا کہ دیکھو میں لکھتا ہوں پھر چاک سے کچھ لکھا اور پوچھا بتاؤ یہ کیا ہے۔1 لکھ دیا۔انہوں نے کہا یہ ایک ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ٹھیک ہے ایک ہی ہے اور اس کے ساتھ نیچے بہت سے زیرو لکھنے شروع کر دیے ہر زیر و پر اللہ تعالیٰ پوچھتا تھا کہ بتاؤ یہ کیا ہے۔0 صفر کچھ بھی نہیں۔پھر ایک اور صفر لکھ دیا، پھر ایک اور صفر لکھ دیا ، پھر ایک اور صفر لکھ دیا۔یہاں تک کہ جب بہت سے صفر لکھے گئے تو ان میں سے ایک صفر کو اٹھا کر ایک کے دائیں طرف کر دیا۔اب بتاؤ یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا دس۔ایک اور صفر دائیں طرف لگا دیا اب بتاؤ یہ