خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 678
خطبات طاہر جلد ۱۲ 678 خطبه جمعه ۳ ستمبر ۱۹۹۳ء کیا ہے؟ انہوں نے کہا سو (100)۔ایک اور صفر دائیں طرف لگا دیا اب بتاؤ یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا ہزار یہاں تک کہ Black Board ختم ہو گیا اور وہ گنتی شمار میں نہیں آ سکتی تھی۔اس حالت میں کشف ختم ہوا۔تب ان کو سمجھ آئی کہ باقی کائنات کی حیثیت کیا ہے۔لامتناہی وجود ہیں گنتی میں مگر جب تک خدا کے دائیں طرف ہیں اس وقت تک ان کا وجود دکھائی دے گا۔جب وہاں سے ہٹے یا معزول ہوئے ان کی کوئی حقیقت باقی نہیں رہے گی۔پس ایک، ایک ہی ہے اور اس کے مقابل پر باقی سب صفر ہے۔وہ خدا تعالیٰ کے تعلق کے نتیجے میں دکھائی دیتے ہیں۔اس کے بغیر اپنی ذات میں دکھائی نہیں دے سکتے۔پس یہی مضمون ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بیان فرما ر ہے ہیں کہ اول یہ کہ اس کے وجود کے مقابل پر تمام موجودات کو معدوم کی طرح سمجھنا اور تمام کو ہا لکۃ الذات اور باطلہ الحقیقت خیال کرنا۔۔۔“ ہالکۃ الذات کا مطلب ہے ان کی ذات میں ہی ان کی ہلاکت داخل ہے۔ہر چیز جو وجود میں آتی ہے اس کا عدم ہو جانا اس کے وجود میں منقش ہوتا ہے،لکھا جاتا ہے اور کوئی چیز بھی ہمیشہ کے لئے نہیں ہے اور باطل فی الحقیقت، وہ کچھ بھی نہیں ہیں، وہ صفر ہی ہیں۔اللہ ہی ہے جو ان صفروں کو کوئی قدر بخش دے ورنہ اس کے سوا ان صفروں کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔وو۔۔۔دوم صفات کے لحاظ سے توحید یعنی یہ کہ ربوبیت اور الوہیت کی صفات بجز ذات باری کسی میں قرار نہ دینا۔۔۔“ صفات کے لحاظ سے توحید کے متعلق فرماتے ہیں ربوبیت اور الوہیت کی صفات بجز ذات باری کسی میں قرار نہ دینا۔یہ بہت اہم مضمون ہے دیکھیں اللہ تعالیٰ رب العالمین ہے۔رب العالمین صلى الله ب سے زیادہ تعلق حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کا ہوالیکن آپ کو رب نہیں قرار دیا گیا۔آپ کو رَحْمَةً لِلْعَلَمِینَ قرار دیا گیا ہے۔حالانکہ سورۃ فاتحہ میں پہلا تعارف رب کا ہوا ہے۔الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ (الفاتح ٢-٣) الرَّحْمَنِ کی صفت سے آپ کو متصف فرما دیا گیا یعنی رَحْمَةً لِلْعَلَمِنِینَ کی شکل میں اور رحیمیت کی صفات بھی آپ کے حق میں بیان فرمائی گئیں۔بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ (التوبہ: ۱۲۸) آپ