خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 676 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 676

خطبات طاہر جلد ۱۲ 676 خطبه جمعه ۳ ستمبر ۱۹۹۳ء کرتا ہے۔دل اس کا سجدہ ریز ہو جاتا ہے۔الحمد للہ یہ بھی ایک عارضی سا سہارا بنا ہوا تھا یہ بھی ٹوٹ گیا۔مجھے کوئی پرواہ نہیں، میرا سہارا تو خدا ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جو تو حید کا نقشہ کھینچ رہے ہیں اس کو غور سے پڑھنے سے توحید کا گہر اعرفان نصیب ہوتا ہے۔’۔۔۔اپنا خوف اسی سے خاص کرنا۔۔۔“ کئی قسم کے خوف کے مقامات آتے ہیں۔اگر انسان موحد ہوتو ہر خوف کا مقام، مقام امن میں بدل سکتا ہے کیونکہ خوف صرف خدا کا ہے۔اگر خدا کا خوف دل میں ہو تو ہر دوسرا خوف زائل ہو جاتا ہے اس کی پرواہ کوئی نہیں رہتی۔تو حید کیسی امن کی تعلیم ہے۔توحید کے دامن میں آ کر ہر دوسرے دامن سے نجات مل جاتی ہے اور کامل امن دنیا میں انسان کو نصیب ہوتا ہے۔اس کو پتا ہو کہ خدا کے سوا کوئی بندہ مجھے کوئی نقصان بھی نہیں پہنچا سکتا جب تک اس کی اجازت نہ مل جائے ، اس کا اذن نہ ہو۔یہ جو مضمون ہے ان ہی لوگوں کے حق میں صادق آتا ہے۔جو موحد ہوتے ہیں ورنہ دنیا میں جن کا تعلق تو حید کے ذریعے نہیں ہے ان کی خدا تعالیٰ کو کیا پرواہ ہے؟ وہ لوگ ایک دوسرے کے ظلم کے ساتھ کاٹے جائیں ، زندہ رہیں یا بچ رہیں۔ان کی زندگیاں ان کا مرنا سب بے حقیقت ہوتا ہے۔یہ مضمون جو ہے خوف والا۔یہ موحد بندوں پر صادق آتا ہے، جو موحد ہوں جو خدا تعالیٰ پر توکل رکھتے ہوں، جو خدا کی خاطر غیر اللہ کا خوف دل سے نکال دیں، ان کے متعلق خدا کے اذن کے سوا کسی کو اختیار نہیں ہوتا کہ انہیں کوئی گزند پہنچا سکے اور جب گزند پہنچتا ہے تو کامل شرح صدر کے ساتھ اس کو قبول کرتے ہیں۔جانتے ہیں کہ یہ میرے اللہ کی اجازت سے ہوا ہے اس لئے ان کو کوئی تکلیف نہیں ہوتی کیونکہ عاشق اپنے معشوق کی رضا پر ہمیشہ راضی رہتا ہے۔پھر فرماتے ہیں:۔۔۔پس کوئی تو حید بغیر ان تین قسم کی تخصیص کے کامل نہیں ہو سکتی۔( وہ کون سی تین قسمیں ہیں؟ ) اول ذات کے لحاظ سے توحید یعنی یہ کہ اس کے وجود کے مقابل پر تمام موجودات کو معدوم کی طرح سمجھنا اور تمام کو ہالکتہ الذات اور باطلہ الحقیقت خیال کرنا۔“ کچھ ایسے الفاظ ہیں جو عام طور پر اردو سمجھنے کے باوجود بعض لوگ نہیں سمجھ سکتے اس لئے ان