خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 661
خطبات طاہر جلد ۱۲ 661 خطبه جمعه ۲۷ /اگست ۱۹۹۳ء ( کامل ابن اثیر جلد ۲صفحہ ۶۹) وہ کہا کرتی تھیں عمر! اگر تم نے اسلام قبول نہ کیا تو خدا اس ظلم کو کبھی بے انتقام نہیں چھوڑے گا۔اس بات میں ایک بہت بڑا راز ہے۔جس سے جماعت کو فائدہ اٹھانا چاہئے۔انتقام کی جذبے کی انتہا کے وقت جبکہ سب سے زیادہ انتقام کا جذ بہ کڑوا ہو چکا ہوتا ہے۔اس وقت بھی وہ لونڈی یہ جانتی تھی اسلام بہر حال بہتر ہے۔اگر میں خدا سے یہ بددعا کروں کہ اس کو ضرور ذلیل و رسوا کرے تو خدا ایسا ہی کرے گا۔مگر میری تمنا یہ ہے کہ اسلام قبول کرلے اور اس کے سارے گناہ بخشے جائیں۔تو یہ کہا کرتی تھیں اگر تم نے اسلام قبول نہ کیا تو ایسا ہو گا اور میں سمجھتا ہوں کہ اس مظلوم لونڈی کی دعا تھی جو اس دردناک حالت میں حضرت عمرؓ کے حق میں نکلی ہے جس وجہ سے خدا تعالیٰ نے آپ کا انتخاب فرمایا اور ابو جہل کا انتخاب نہیں فرمایا۔آنحضرت ﷺ نے جب دو بڑوں میں سے ایک مانگا تو یہ دیا گیا۔اس میں میرا یہ ذوقی نکتہ ہے کہ اس لونڈی کی دعا کا اعجاز بھی شامل ہے۔یہ آپ کی شفیع بن گئی۔پس خدا تعالیٰ نے اس کو چن لیا اور اس کو چھوڑ دیا جس کے لئے کسی نے دعا نہیں کی تھی۔حضرت زنیرہ بنومخزوم کی لونڈی تھیں۔ابو جہل نے اسے اس بے دردی سے پیٹا کہ اس کی آنکھیں جاتی رہیں۔ہمیشہ کے لئے اندھی ہو گئیں اور ابو جہل طنز کے ساتھ اشارہ کرتے ہوئے کہا الله کرتا تھا کہ دیکھو جی اسلام سچا ہوتا تو کیا اسے مل جاتا اور میں محروم رہ جاتا ؟ حضرت صہیب بن سنان رومی ہر چند کہ غلام نہ تھے۔یعنی اب وہ غلام ہیں جو پہلے غلام ہوا کرتے تھے پھر آزاد ہو گئے۔ان میں سے چند کا تذکرہ ہے جو تھے بھی نسبتاً خوشحال لیکن قریش ان کو اتنا پیٹا کرتے تھے کہ حواس مختل ہو جایا کرتے تھے اور گھبرا کر وہ بہکی بہکی باتیں کرنے لگتے تھے۔وہی صہیب ہیں جن کو حضرت عمرؓ نے زخمی ہونے کی حالت میں امام الصلوۃ مقرر فر مایا تھا۔کہاں وہ مقام اور کہاں یہ مقام اللہ تعالیٰ کی یہ شان دیکھیں اور کہاں وہ بلال جوگلیوں میں گھسیٹا جاتا تھا جس کو ہر کس و ناکس، ہر گندہ لونڈ اگلی کا ، رسیوں کے ساتھ پتھریلی زمینوں پر گھسیٹتے ہوئے مذاق بھی اڑاتا ہوگا، قہقہے لگا تا ہوگا اور اس دردناک عذاب پر گلیوں میں تماشہ بنا لیا گیا ہوگا۔ایک ایسا وقت آیا حضرت عمر حضرت بلال کو دیکھتے تو سیدنا بلال، سیدنا بلال کہتے ہوئے اٹھ کر کھڑے ہو جاتے تھے۔دیکھو! دیکھو !! ہمارا آقا بلال آ گیا ہے۔پس دیکھو غلاموں کو تو حید نے کیسی عزت بخشی تھی۔کیسی عظمت عطا کی تھی اور سکے میں داخل ہوتے ہوئے ایک اس غلام کا جھنڈا بھی تھا۔جس کے متعلق حضرت