خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 660 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 660

خطبات طاہر جلد ۱۲ 660 خطبه جمعه ۲۷ /اگست ۱۹۹۳ء قوموں کو اپنے قبیلوں کی حمایت حاصل تھی اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے قبیلے والے ہی اور ان میں سے اگر بڑے ظلم کریں تو الگ بات تھی ورنہ غیر کو جرات نہیں ہوتی تھی۔وہ غلام تو ہر کس و ناکس کی ملکیت بن جایا کرتا تھا۔جس طرح گلیوں کے کتے ہوتے ہیں بعض دفعہ عرب ان سے بدتر غلاموں سے سلوک کیا کرتے تھے۔ان میں سر فہرست حضرت بلال بن رباح ہیں جو امیہ بن خلف کے ایک حبشی غلام تھے۔امید ان کو دوپہر کے وقت جبکہ آسمان سے آگ برس رہی ہوتی تھی۔مکے کے پتھر یلے علاقوں میں جب میدان بھٹی کی طرح تپنے لگتے تھے، اس وقت باہر لے جاتا۔پیٹھ سے قمیض اتار دیتا تھا۔لٹا کر گرم پتھر آپ کی چھاتی پر رکھ دیا کرتا تھا اور کہتا تھا کہ لات اور عزمی کی پرستش کر دو اور محمد سے علیحدہ ہو جاؤ ورنہ اسی طرح عذاب دے دے کر مار دوں گا۔بلال اس اذیت کی انتہا کے وقت اور تو کچھ نہیں کہہ سکتے تھے مگر مسلسل احد احد احد کی آواز اٹھتی رہتی تھی۔بسا اوقات آپ بے ہوش ہو جاتے تھے مگر بے ہوشی کے وقت بھی آپ کی آخری آواز آپ کے منہ سے احد احد احد کی آواز اٹھ رہی ہوتی تھی۔ایک موقع پر حضرت ابو بکر نے جب اس ظلم وستم کو دیکھا تو بہت بڑی قیمت دے کر بلال کو آزاد کروالیا۔(مسند احمد جلد اصفحہ ۴۰۴۰) جہاں تک امیہ کا تعلق ہے جب وہ احد کی آواز سنتا تھا تو اس کی آتشِ غضب اور بھڑک اٹھتی تھی اور بعض دفعہ ان کے گلے میں رسہ ڈال کر گلی کے آوارہ لڑکوں کو کہتا تھا کہ انہیں پتھریلی گلیوں میں گھسیٹتے پھر و، جیسا کتے کو گھسیٹا جاتا ہے اور اس طرح حضرت بلال گلیوں میں گھسیٹے جاتے تھے اور مسلسل ایک ہی آواز تھی جو آپ کی زبان سے اٹھتی تھی۔احـد أحــد احد۔روایت والے بیان کرتے ہیں یہی آواز دیتے دیتے آپ بے ہوش ہو جایا کرتے تھے۔ابوفکیہ صفوان بن امیہ کے غلام تھے۔صفوان بن امیہ نے بھی یہی طریق سیکھ لیا تھا۔گرم زمین پر ان کو لیٹا دیتا تھا اور سینے پر بھاری پتھر رکھ دیا کرتا تھا۔یہاں تک کہ ان کی زبان باہر نکل جاتی تھی بوجھ سے اور تکلیف سے لیکن ایک دفعہ بھی کلمہ کفر آپ کے منہ سے نہیں نکلا۔(اسد الغابہ جلد ۵ صفحہ ۲۷۳) عامر بن فہیرہ بھی ایک غلام تھے۔انہیں بھی اسلام کی وجہ سے سخت تکلیف دی جاتی تھی۔حضرت ابو بکر نے خرید کر اپنے پاس بکریاں چرانے پر نوکر رکھ لیا۔(اسد الغابہ جلد ۳ صفحہ ۳۱) لبیہ بنو عدی کی لونڈی تھیں۔اسلام لانے سے پہلے حضرت عمران کو اتنا مارا کرتے تھے کہ مارتے مارتے خود تھک جایا کرتے تھے پھر کچھ دیر آرام کے لئے بیٹھ جاتے تھے پھر اٹھ کر ان کو مارا کرتے تھے۔