خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 662 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 662

خطبات طاہر جلد ۱۲ 662 خطبه جمعه ۲۷ را گست ۱۹۹۳ء محمد رسول اللہ ﷺ نے اعلان فرمایا تھا کہ اے اہل مکہ ! اگر تم بلال کی پناہ میں آ جاؤ ، اس کے جھنڈے کے نیچے آ جاؤ تو تمہیں معاف کر دیا جائے گا۔پس خدائے واحد ان لوگوں کو کبھی بے اجر نہیں چھوڑتا۔جو اس کی خاطر دکھ اٹھاتے ہیں، تکلیفیں سہتے ہیں اور عذابوں میں مبتلا کئے جاتے ہیں، لوگ ان کو بھول جاتے ہیں مگر خدا ان کو ہمیشہ یا درکھتا ہے اور عزت پر عزت دیتا چلا جاتا ہے۔خباب بن الازت بھی ایک غلام نہیں رہے تھے مگر اپنا کام کرنے سے پہلے یہ لوہار ہوا کرتے تھے۔آپ ایک غلام ہی تھے کیونکہ یہ لوہار تھے ، بھٹی دہکایا کرتے تھے جس میں پھر لوہا پگھلا کر اسے کوٹ کر دوسری چیزیں بناتے تھے۔تو کفار مکہ کو یہ بہت اچھا اپنی طرف سے موقع ہاتھ آ گیا۔بعض دفعہ ان کی بھٹی سے کو سلے نکال کر ان کو ان کوئلوں پر لٹا دیا جا تا تھا اور ایک شخص ان کی چھاتی پر بیٹھ جاتا تھا تا کہ بل بھی نہ سکیں۔اس حالت میں ان سے کہا جاتا تھا کہ اب بولو خد ا واحد ہے کہ نہیں ہے اور ان کی طرف سے کبھی ایک دفعہ بھی کلمہ شرک منہ سے نہ نکلا۔اسی حالت میں اپنے ہی چھالوں اور اپنے ہی خون سے وہ کوئلے ٹھنڈے ہو جایا کرتے تھے (اسد الغابہ جلد۲ صفحہ ۹۸) جو اتنے گرم تھے کہ لوہے کو پگھلا دیا کرتے تھے۔بعد کے زمانے میں بعض دفعہ وہ اپنا نمیض اٹھا کر دکھایا کرتے تھے۔یہ دیکھو جیسے برص کے داغ ہوں اس طرح کوئلوں کو بجھا بجھا کر وہ ساری پیٹھ یوں لگتا تھا کہ جیسے برص کا شکار ہوگئی ہو۔اس پر وہ سفید داغ پڑ چکے تھے اور ان سے تمسخر بھی ایسے جاہلا نہ تھے ایک دفعہ عاص بن وائل نے ان سے تلواریں بنوائیں کیونکہ وہ اپنے کام کے بڑے ماہر تھے۔جب اس نے اچھی تلواریں بنا کر پیش کیں تو کہا کہ ان کا کوئی دام تمہیں آج میں نہیں دیتا کیونکہ تم تو اس بات کے قائل ہو کہ قیامت کے دن سب سودے ہو جائیں گے جو اس دنیا میں کمی رہ جائے گی اس دنیا میں پوری کر دی جائے گی۔تو میں تو بہر حال جنت میں جاؤں گا تم جنت میں آ کر قیامت کے بعد جب اس دن میں جنت میں آؤں گا تو مجھ سے پیسے وصول کر لینا۔اس کو کیا پتا تھا کہ وہ جہنم ہو گا اور حضرت خباب تو جہنم میں جھانک کے بھی نہیں دیکھیں گے۔لیکن اللہ تعالیٰ کی شان ہے کہ اس نے یہ سارے سودے جہنم بھیجنے سے پہلے ہی طے فرما دیئے ہیں۔یہ فرما کر کہ حساب کتاب پہلے ہو گا۔وہاں تمام قرضے چکائے جائیں گے۔یہ سب کچھ ہو جائے گا پھر جنت والے جنت کی طرف لے جائے جائیں گے اور جہنم والے جہنم میں دھکیلے جائیں گے۔