خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 650
خطبات طاہر جلد ۱۲ 650 خطبه جمعه ۲۷ /اگست ۱۹۹۳ء پس اس فتنے کا بھی ہمیشہ کے لئے رڈ فرما دیا گیا اگر کوئی تجدید کی ضرورت پڑتی ہے تو ہمیشہ انقطاع کے بعد پڑا کرتی ہے اور دراصل تجدید کے وعدے میں خلافت راشدہ کے انقطاع کی درد ناک خبر بھی دے دی گئی تھی۔اگر خلافت راشدہ جاری رہتی تو کسی اور مجدد کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا ورنہ ہر صدی کے سر پر خلافت کے ساتھ ایک اور رقیب اٹھ کھڑا ہوتا اور صدی درصدی امت الہی منشاء کے مطابق منقطع ہو جاتی اور کائی جاتی رہی اور متفرق ہو کر بکھر جاتی۔پس کیسی جاہلا نہ سکیم ہے، کیسا جاہلانہ تصور ہے جو یہ لوگ اللہ کی طرف منسوب کرتے رہے اور طرح طرح کی دل آزاریوں سے حضرت خلیفتہ اسیح الثالث کے دل کو چر کے لگاتے رہے۔آپ نے بارہا جماعت کو کھلے بندوں سمجھانے کی کوشش کی لیکن یہ فتنہ اسی طرح مقابل پر سر اونچا کئے رہا۔یہاں تک کہ خدا نے اس فتنے کا سرتوڑ دیا اور خدا نے ثابت کر دیا کہ خلیفہ اسیح الثالث کی تعبیر درست تھی جو تفسیر آپ نے فرمائی تھی وہی تفسیر سچی تھی اور پھر خدا کی تائیدی گواہی اور عملی گواہی نے ہمیشہ کے لئے اس فتنے کا سر کچل دیا ہے۔ان لوگوں کے لئے جن میں ایمان اور شرافت اور تقویٰ ہو۔جن کے دل ٹیڑھے ہیں ان کے لئے تو کوئی وعدہ نہیں ہے۔ان کو تو قرآن بھی ہدایت دے نہیں سکتا کیونکہ جو دل تقویٰ سے عاری ہو اس کے لئے کوئی ہدایت نہیں ہے مگر میں جماعت احمدیہ کو مخاطب ہوں جن کے بھاری اکثریت کے متعلق میں جانتا ہوں اور گواہی دیتا ہوں کہ وہ تقویٰ پر قائم ہیں۔اس لئے کہ خدا کا سلوک ان سے وہ ہے جو متقیوں سے کیا جاتا ہے، اس لئے کہ خدا کی وہ تائیدات ان کو نصیب ہیں جو متقیوں کو نصیب ہوا کرتی ہیں۔پس دلوں پر تو میری کوئی نظر نہیں ہے مگر خدا تعالی کی فعلی شہادتیں بتارہی ہیں کہ وہ متقیوں کی جماعت ہے جس کے ساتھ وہ مسلسل اس قدر کثرت کے ساتھ احسان اور رحمت اور فضلوں کا سلوک فرما تا چلا جا رہا ہے۔پس وہ متقی جو میرے مخاطب ہیں وہ اس بات کو خوب سمجھ لیں گے کہ در حقیقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد جس قدرت ثانیہ کوخدا تعالیٰ نے قائم فرمایا وہ قیامت تک کے لئے ہے اور قیامت تک کے لئے غیر منقطع ہے۔پس وہ قدرت غیر منقطع ہے تو اس کے ہوتے ہوئے کیا ضرورت ہے کہ کسی اور شخص کو بطور مجد دکھڑا کیا جائے اور اگر کوئی یہ کہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی زمانے کی حد نہیں لگائی اس لئے قیامت تک کے لئے اس حدیث کا اثر