خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 651
خطبات طاہر جلد ۱۲ 651 خطبه جمعه ۲۷ /اگست ۱۹۹۳ء جاری ہے۔تو ایسے سوچنے والوں کو غور کرنا چاہئے کہ قیامت تک کے لئے اس وقت کے خلیفہ کو کیوں خدا مجدد نہیں بنا سکتا جو صدی کے سر پر کھڑا ہو اور اس صدی کے غیر معمولی تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے کسی تجدید کی ضرورت سمجھے۔پس اس حدیث نبوی کا آیت استخلاف سے کوئی ٹکراؤ نہیں بلکہ دراصل آیت استخلاف کے مضمون کو اس طرح بیان فرمایا گیا ہے جس طرح پانی کے بعد تیم کا ذکر کیا جاتا ہے۔اگر خلافت قائم نہ رہے تو خدا اس امت کو چھوڑے گا نہیں اور مسلسل نہیں تو کم سے کم ہر صدی کے سر پر ضرور کوئی ایسا ہدایت یافتہ وجود بھیج دے گا جو اس وقت تک جمع ہوئی ہوئی گمراہیوں کا ازالہ فرمائے گا یا ایک سے زائد ایسے وجود بھیج دے گا جو مختلف جگہوں پر تجدید دین کا کام کریں گے۔جب خلیفہ موجود ہوتو پھر خلافت سے الگ کسی تجدید کی ضرورت نہیں ہے اور وہ خلافت جس کا مسیح موعود کے ساتھ وعدہ کیا ہے اتنی نمایاں طور پر الہی تائید یافتہ خلافت ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے اگر آپ تجدید کا تصور کریں تو یہ ماننا لازم ہو گا کہ یہ خلافت ہلاک ہو چکی ہے اس میں کوئی تقویٰ کی روح باقی نہیں رہی۔ایسی صورت میں پھر الگ مجد دا گر کھڑا کیا جاتا ہے تو پھر یہ اللہ کا کام ہے اور اللہ کے کام جب ظاہر ہوتے ہیں تو خود اپنا ثبوت اپنی ذات میں رکھتے ہیں کسی بحث کے محتاج نہیں ہیں مگر خدا کے کام خدا کے وعدوں کے خلاف نہیں ہوا کرتے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: " وہ ہمارا خدا وعدوں کا سچا اور وفادار اور صادق خدا ہے وہ سب کچھ تمہیں دکھائے گا جس کا اس نے وعدہ فرمایا اگر چہ یہ دن دنیا کے آخری دن ہیں اور بہت بلائیں ہیں جن کے نزول کا وقت ہے پر ضرور ہے کہ یہ دنیا قائم رہے جب تک وہ تمام باتیں پوری نہ ہو جائیں جن کی خدا نے خبر دی۔میں خدا کی طرف سے ایک قدرت کے رنگ میں ظاہر ہوا اور میں خدا کی ایک مجسم قدرت ہوں اور میرے بعد بعض اور وجود ہوں گے جو دوسری قدرت کا مظہر ہوں گے پھر فرمایا: 66 تمہاری نسبت وعدہ ہے جیسا کہ خدا فرماتا ہے کہ میں اس جماعت