خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 639
خطبات طاہر جلد ۱۲ 639 خطبه جمعه ۲۰ راگست ۱۹۹۳ء ہے اس میں جان نہیں پڑتی۔پس جہاں تو حید دکھائی دے گی وہ لوگ اچھے لگیں گے، پیارے لگیں گے۔مگر تو حید کے جسم میں روح بھی تو ہونی چاہئے ، مردہ توحید سے انسان کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا۔وہ توحید کے پھرتے ہوئے لاشے دکھائی دیں گے جن میں کوئی جان نہیں، جو خدا سے ملانے کی اہلیت نہیں رکھتی۔پس اپنی تو حید کو معنی خیز بنا ئیں ایسا معنی خیز کہ جس کے نتیجے میں آپ کو قرب الہی کے پھل عطا ہوں۔حضرت اقدس محمد رسول اللہ اللہ کا سفر جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے توحید سے شروع ہوا، تو حید پرختم نہیں ہوا۔تو حید پر چلتے ہوئے آپ ﷺ نے جان دی ہے یہ سفر مجھے کامل یقین ہے کہ توحید کا سفر وصالِ الہی کے بعد مستقلاً جاری رہنے والا سفر ہے۔اگر خد الا متناہی ہے تو کوئی وجود خواہ کتنا ہی بلند مقام رکھتا ہو، اپنی موت تک خدا کو کامل طور پر پاہی نہیں سکتا۔مرنے کے بعد کی زندگی میں اس کا سفر ہمیشہ خدا کی طرف جاری رہنے والا سفر ہے اور اس سفر میں سب سے آگے حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کا قدم پڑتا ہے اور اسی کا نام قدم صدق ہے۔پس ہم سے یہ وعدہ فرمایا گیا ہے کہ اگر تم تو حید پر قائم رہو گے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو الہاما یہ بتایا گیا ہے کہ خوشخبری دے دوان لوگوں کو کہ تمہیں قدم صدق عطا ہو گا۔اس راہ پر قدم رکھنے کی توفیق ملے گی جس راہ پر حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے قدموں کے نشان ملتے ہیں، ان کے پیچھے پیچھے لامتناہی ترقیات کی طرف گامزن ہو جاویں گے۔آپ کی نبوت کے آغاز پر آپ نظر ڈال کر دیکھیں یعنی حضرت رسول اکرم ﷺ کی نبوت کے آغاز پر نظر ڈالیں تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ توحید اور اسلام ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔سب سے زیادہ زور آغاز ہی سے توحید پر دیا گیا اور سب سے زیادہ قربانی توحید کے نام پر دی گئی۔توحید کے ساتھ غیر اللہ کی نفی بھی شامل تھی۔آنحضرت ﷺ نے لا اله الا الله جب فرمایا تو لا اله الا الله کے مضمون کو بھی خوب کھول کر قوم کے سامنے بیان فرمایا۔ان کے تمام جھوٹے بتوں کی نفی کر دی ، ان کے تمام فرضی خداؤں کو مار کے دکھایا اور بتایا کہ کچھ بھی نہیں ہے۔صرف ایک خدا ہے جو خدائے واحد دیگا نہ ہے اس پر قوم بہت غصے میں آئی اور بار بار حضرت اقدس محمد رسول اللہ یہ کوڈرا دھمکا کر ان باتوں سے باز رکھنے کی کوشش کی گئی اور جب کسی طرح ان کی پیش نہیں گئی تو حضرت ابوطالب کے