خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 638 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 638

خطبات طاہر جلد ۱۲ 638 خطبه جمعه ۲۰ /اگست ۱۹۹۳ء ہوں جو فرقے توحید پر زور دیتے ہیں بہت اچھا کرتے ہیں۔مثلاً سعودی عرب میں وہابیت کا بڑا زور ہے جتنا وہ تو حید پر زور دیتے ہیں اچھی بات ہے اور ایک موحد کا فرض ہے کہ اس معاملے میں ان کی تائید کرے مگر بدنصیبی سے وہ تو حید پر سفر ختم کر دیتے ہیں حالانکہ توحید سے سفر شروع ہوا کرتا ہے۔توحید سے جو سفر شروع ہوتا ہے وہ زمین پر انسان کو نہیں رہنے دیتا، وہ مادوں کے ساتھ لپٹائے نہیں رکھتا، وہ رفعتیں عطا کرتا ہے اس کے اندر روحانیت لازم ہے۔توحید ایک زندہ حقیقت کا نام ہے، ایک مردہ جسم کا نام نہیں ہے۔پس وہ لوگ جو تو حید پر زور دیتے ہیں اور جسم مردہ رکھتے ہیں یعنی روحانی جسم ان کے مردہ ہیں۔ان میں روح نہیں رہتی اور دعا کی طرف توجہ نہیں ہے، ان میں اولیاء نہیں پیدا ہوتے ، ان میں بلندیوں کی طرف، رفعتوں کی طرف پرواز کرنے والے پیدا نہیں ہوتے۔ان کی تو حید وہ تو حید نہیں ہے جو حضرت اقدس محمد رسول اللہ اللہ کی توحید ہے۔اس توحید سے تو ایسی پر پرواز عطا ہوتی ہے کہ اس مقام سے آگے لے جاتی ہے جہاں کہا جاتا ہے کہ جبرائیل کے پر جل جاتے ہیں۔یہ ایک محاورہ ہے کہ حضرت جبرائیل بھی اگر اس کے آگے بڑھے تو پر جل جاتے ہیں۔پس تو حید رفعتوں ہی کا دوسرا نام ہے جو زمین سے اٹھاتی ہے اور لامتناہی بلندیوں تک پہنچاتی ہے۔اگر آپ تو حید پر قائم ہیں یا قائم ہو سکتے ہیں تو آپ کی روحانی ترقی ضروری ہے۔اگر موحد کہلاتے ہیں اور نہ سچی خوا ہیں آتی ہیں، نہ دعاؤں کی توفیق پاتے ہیں، نہ دعاؤں کا پھل ملتا ہے۔بڑی جہالت کی بات ہے، بے وقوفی ہے کہ ہم تو حید پر ہیں حالانکہ تو حید پر نہیں ہیں۔اب ہمارے جلسہ سالانہ کے بعد جو تبصرے علماء کی طرف سے چھپے ہیں اس میں میری طرف یہ بیان منسوب کرتے تو ٹھیک تھا کہ جماعت احمد یہ خدا کے فضل سے وہ زندہ جماعت ہے۔جس کا سارے عالم میں اللہ سے تعلق ہے۔ہمیں دعاؤں کے پھل ملتے ہیں ، ہم مجزے دیکھتے ہیں، خدا ہم سے ہم کلام بھی ہوتا ہے، ہمیں کچی خوابیں بھی دکھاتا ہے اور ہمارے حق میں عظیم الشان کام دکھاتا ہے۔یہ اپنے الفاظ میں مختصر لکھا ہوا ہے۔مرزا طاہر کا کیسا مضحکہ خیز بیان ہے، اتنا مضحکہ خیز کہ خدا ہم پر مہربان ہوتا ہے، خدا ہم سے ہماری دعائیں قبول کرتا ہے، خدا ہمیں نشان دکھاتا ہے۔یہ اس فرقے سے تعلق رکھنے والے مولوی صاحب ہیں جن کا بیان ہے جو موحد کہلاتے ہیں۔جن کی توحید نور تقویٰ سے عاری ہے، جن کا اللہ سے گہرا محبت کا تعلق قائم نہ ہو۔وہ تو حید ایک خالی جسم بن جاتی