خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 640 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 640

خطبات طاہر جلد ۱۲ 640 خطبه جمعه ۲۰ /اگست ۱۹۹۳ء پاس پہنچے جو آپ ﷺ کے چچا تھے اور عرب کے دستور کے مطابق عرب سرداروں میں سے ایسے سردار تھے کہ جن کی پناہ میں اگر کوئی ہو تو اس پر ہاتھ ڈالنا خطرے کا موجب تھا یعنی خواہ کتنا ہی طاقتور قبیلہ ہو اگر کسی بڑے سردار کی پناہ میں کوئی شخص ہو تو پناہ میں آئے ہوئے شخص پر ہاتھ ڈالنے سے ڈرتا ہے اور یہی ایک ترڈ دتھا جو حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ پر ظالمانہ حملے کی راہ میں ایک روک بنا ہوا تھا لیکن کفار مکہ کا صبر آخر ٹوٹ گیا۔وہ ابو طالب کے پاس پہنچے اور یہ بتایا کہ دیکھو یہ ہمیں ایسے ایسے سخت لفظوں سے یاد کرتا ہے، ہمارے بتوں کو جھوٹا کہتا ہے ، ہمیں بیوقوف کہتا ہے اور ایسی دل آزار باتیں کرتا ہے کہ اب ہماری برداشت سے باہر ہے۔اگر تم نے اپنے اس بھتیجے کو نہ روکا تو ہم نہ صرف یہ کہ اس کے امن کی ضمانت نہیں دیتے بلکہ تم سے بھی اپنے امن کا ہاتھ اٹھاتے ہیں اور تمہیں اگر اس کے بعد کوئی گزند پہنچا تو ہم اس کے ذمہ دار نہیں ہیں۔وہ اس پر بہت گھبرائے اور حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کو بلایا اور یوں مخاطب ہوئے۔اے میرے بھتیجے ! اب تیری باتوں کی وجہ سے قوم سخت مشتعل ہو گئی ہے اور قریب ہے کہ تجھے ہلاک کر دیں اور ساتھ ہی مجھے بھی۔تو نے ان کے عظمندوں کو سَفَها (الانعام: ۱۴۱) قرار دیا ہے۔ان کے بزرگوں کو شر البریہ کہا، ان کے بزرگوں کو آسمان کے نیچے بدترین مخلوق قرار دیا۔یہ وہی شر البریہ کا لفظ ہے جو بعد کے زمانے میں آنے والے صلى الله مولویوں کے متعلق حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے خود استعمال فرمایا ہے۔اس لئے جس طرح اس وقت ظالم لوگ مشتعل ہوئے تھے۔اب بھی اگر ظالموں نے مشتعل ہونا ہے تو ہوں، اس میں ہم بے اختیار ہیں۔یہ وہ لفظ ہیں جو حضور اکرم ﷺ نے اولین کے ظالموں کے متعلق بھی استعمال فرمائے اور آخرین میں پیدا ہونے والے ظالموں کے متعلق بھی استعمال فرمائے۔بہر حال اس سے بہت لوگوں نے طیش کھایا اور غصے میں آکر یہ آخری الٹی میٹم دیا۔حضور اکرم یہ ابوطالب کی بات آخر تک بڑے تحمل سے سنتے رہے اور پھر فرمایا کہ چا! یہ دشنام دہی نہیں ہے بلکہ نفس الامر کا عین محل پر بیان ہے یعنی اس میں ایسی کوئی اشتعال انگیزی نہیں، کوئی گالی دینا مراد نہیں۔میں اپنے نفس کو جانتا ہوں، ان چیزوں سے پاک ہے۔یہ ایسی حقیقت کا بیان ہے کہ جو بالکل برمحل صادق آ رہی ہے۔پس جو شر البر یہ ہے اس کو شر البریہ کہنا اس حال میں گالی نہیں کہلا تا جبکہ کہنے والا عارف باللہ ہو۔وہ جانتا ہو کہ یہی ان کی کیفیت ہے اور انہیں سمجھانے کی خاطر اور انہیں دکھانے کی خاطر کہ تم کہاں جا پہنچے ہو۔ان کو بتانا پڑتا ہے کہ یہ تمہارا حال ہے۔اس میں کوئی اشتعال انگیزی کا جذ بہ شامل