خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 573
خطبات طاہر جلد ۱۲ 573 خطبہ جمعہ ۳۰ جولائی ۱۹۹۳ء ہیں، کئی قسم کے خیالات ابھرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ہم مان تو لیتے ہیں کیونکہ ایمان لے آئے مگر دل مطمئن نہیں۔یہ جو دلوں کے اطمینان کا معاملہ ہے یہ ہر مرتبے اور ہر درجے سے تعلق رکھتا ہے۔دلوں کے اطمینان کی کوئی کافرانہ خواہش نہیں، کوئی فاسقانہ بات نہیں بلکہ ایک طبعی امر ہے اور سچائی کی نشانی ہے ہر وہ شخص جس کی فطرت سچی ہے۔اگر وہ ایک بات کو تسلیم کرتا ہے اور وہ بات ذہن کو کسی حد تک قائل تو کر لیتی ہے لیکن پوری طرح مطمئن نہیں کر سکتی۔دل اس کی حکمتوں سے پوری طرح آشنا نہیں ہوتا اور پوری طرح راضی ہو کر دماغ اور دل دونوں سجدہ اطاعت بجا نہیں لاتے۔یہ جو کیفیت ہے یہ خطرناک ہے۔اگر یہ مستقل جاری رہے لیکن مومن کے ایمان کے سفر میں ایسی منازل ہر روز آتی چلی جاتی ہیں اور ہر روزان منازل کو خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ کامیابی سے طے کرتا چلا جاتا ہے۔اس کے دو طریق ہیں۔اوّل یہ کہ انسان دعا کے ذریعے خود خدا تعالیٰ سے احکام کی حکمتیں طلب کرے۔وہ لوگ جب بھی دل میں کوئی شبہ یا شبہ نہیں تو کم سے کم لاعلمی کا سایہ پڑتا ہوا د یکھتے ہیں۔ہلکا سا اندھیرے کا مقام آتا ہے وہ سمجھتے ہیں کہ میں پوری طرح اس بات سے مطمئن نہیں ہو سکا۔ان کے لئے تعلیم یہ ہے کہ وہ حکمت کو ضرور سمجھیں کیونکہ حضرت محمد مصطفی ﷺ نے تعلیم کتاب پر ن بات ٹھہرا نہیں دی بلکہ ضرور حکمت بیان فرمائی ہے۔اگر حکمت ضروری نہ ہوتی تو حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کے بنیادی پیغامات اور اہم کاموں میں اس کو شامل نہ کیا جاتا۔پس تعلیم کتاب کے بعد حکمت کا بیان فرماتا ہے۔مراد یہ ہے کہ دماغوں کو بھی راضی کرتا ہے، دلوں کو بھی راضی کرتا ہے۔محض یہ کہہ کر خدا کا پیغام پہنچا دیا ہے۔مانو یا نہ مانو بات کو چھوڑ نہیں دیتا بلکہ تب کرتا ہے، ان پر محنت کرتا ہے۔ان کے ہر قسم کے سوالات کے جوابات دیتا ہے۔انہیں پوچھنے پر بھی اور بغیر پوچھے بھی باتیں سمجھاتا چلا جاتا ہے۔حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ کی ساری زندگی کا خلاصہ ان چار صفات میں بیان ہو گیا ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا تھا کہ ایسا معلم جس کی کوئی نظیر دنیا میں نہیں ملتی۔تاریخ عالم جس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔اس کی ذاتی زندگی تو بہر حال انسانوں کی طرح محدودر ہے گی اور ہمیشگی کے لئے یہ ہمارے اندر قیام نہیں فرما سکے گا تعلیم کتاب کی ضرورت تو پوری ہوگئی لیکن وہ ایسی قو میں بھی تو ہیں جو ابھی اس پیغام سے آشنا ہی نہیں ہیں۔ان کو بھی تو تعلیم دینی ہے اور اس پاک وجود کے گزر