خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 574 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 574

خطبات طاہر جلد ۱۲ 574 خطبہ جمعہ ۳۰ / جولائی ۱۹۹۳ء جانے کے بعد جو معلموں میں خرابیاں پیدا ہو جائیں گی۔ان کا کیا حال ہوگا ؟ آیات میں تو کوئی تبدیلی نہیں۔تزکیہ نفس بنیادی طور پر وہی ایک ہی چیز ہے ، خواہ وہ ہزار سال پہلے ہو یا ہزار سال بعد ہو۔تزکیہ کا مضمون ایسا ہے جس کے اندر کوئی تفریق نہیں پائی جاتی کوئی تقسیم نہیں پائی جاتی۔تزکیہ تزکیہ ہی ہے۔تزکیہ اس دل کی پاک کیفیت کا نام ہے جس کے بعد انسان یہ سمجھتا ہے کہ میں حاضر ہو گیا، سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ( البقرہ:۲۸۶) میں ماننے کے لئے تیار بیٹھا ہوں۔اسی بنیادی فیصلہ کا نام تزکیہ ہے۔اس تزکیہ کی تفصیل تعلیم کتاب سے طے ہوتی ہے۔تعلیم کتاب اس تزکیہ کے نقوش ابھارتی ہے اور ان کو وسیع تر کرتی چلی جاتی ہے۔پس معلم کا ہونا ضروری ہے اور وہ تعلیم جو کامل ہو چکی ہو اور ہمیشہ کے لئے ہو، اس کو ہمیشہ کے لئے ایسے معلمین کی ضرورت ہے جو خدا تعالیٰ سے ہدایت یافتہ ہوں۔پھر ہر زمانے کی طرف سے نئے نئے سوال اٹھائے جاسکتے ہیں ، نئے نئے اعتراض تعلیم پر ہو سکتے ہیں، زمانے کی ضرورتیں بدل جاتی ہیں اور نئی ضرورتوں کے تابع نئے حالات تقاضا کرتے ہیں کہ ان باتوں کی بھی تو حکمت سکھائی جائے۔پرانے زمانے میں آنحضرت ﷺ نے سب حکمتیں بیان فرما دیں ، ساری ضرورتوں پر آپ کے بیان اور آپ کی سنت حاوی ہو گئی۔لیکن بعد میں بھی تو بدلتے ہوئے زمانوں کے تقاضے ہیں ان کے لئے کیا حکم ہے؟ کیسے آنے والوں کو الہبی کلام کی حکمتیں سمجھائی جائیں۔اس سوال کا جواب قرآن کریم میں مختلف جگہ ملتا ہے۔آیت استخلاف میں بھی اس کا جواب دیا گیا ہے اور اسی کی تشریح میں مجدد کی پیشگوئیوں میں بھی درحقیقت اسی سوال کا جواب دیا گیا ہے لیکن جیسا کہ اسلام کی تاریخ بتاتی ہے کہ نہ خلافت راشدہ ہمیشہ کے لئے باقی رہی اور نہ مجددین کا سلسلہ اس حد تک کارگر ثابت ہوا کہ اسلام کے گزرتے ہوئے ادوار میں نیچے کی طرف جو سفر تھا، اسے روک کر پھر بلندیوں کی طرف موڑ دیتا ہے۔وقتی طور پر سنبھالے دیئے گئے ہیں، وقتی طور پر اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ گرتی ہوئی قوموں کو اٹھایا گیا ہے، بعض شکوک کے ازالے کئے گئے ہیں، بعض فتنوں کو مٹایا گیا ہے، بہت بڑی بڑی تجدید کی کوششیں ہیں جن کا تاریخ اسلام میں ذکر محفوظ ہے لیکن دو باتیں ایسی ہیں جن کی وجہ سے ایک تفنگی سی باقی رہ جاتی ہے۔ایک یہ کہ مجددیت نے جو آخری تنزل کا رخ تھا۔اس کو موڑ انہیں سنبھالے تو دیئے لیکن کسی ایک منزل پر بھی یہ نہیں ہوا کہ سارا عالم اسلام کامل طور پر حضرت اقدس