خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 572
خطبات طاہر جلد ۱۲ 572 خطبہ جمعہ ۳۰ جولائی ۱۹۹۳ء ہے اس کا تعلیم کتاب سے تعلق ہے۔کتاب کی تعلیم اسے بتاتی ہے کہ دیکھو یہ کرو گے تو خدا کو راضی کرو گے، یہ نہ کرو گے تو خدا کو راضی کرو گے، یہ نہ کرو گے تو خدا کو ناراض کرو گے، یہ کرو گے تو خدا کو ناراض کرو گے۔اس کا نام تعلیم کتاب ہے۔پس فرمایا محض عمومی تزکیہ نہیں فرماتا ، دلوں میں پاک تبدیلیاں ہی پیدا کر کے اس بات کو نہیں چھوڑ دیتا بلکہ تبع کرتا ہے اور پاک تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ جو اعمال میں تبدیلیاں ہونی چاہئیں انہیں معین طور پر بیان فرماتا ہے۔یہ جو بات ہے ، یہ بہت ہی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ جماعت احمد یہ آج جس دور میں داخل ہے ہم اس دور میں بکثرت قوموں کو حضرت صلى الله اقدس محمد مصطفی ﷺ کا پیغام پہنچا رہے ہیں اور بکثرت قوموں کے دل اس پیغام کو قبول کرنے کی طرف مائل ہورہے ہیں۔ایسے مواقع پر کثرت سے جو اطلا ئیں ملتی ہیں معلوم ہوتا ہے بہت ہی ایمان افروز ماحول تھا، بہت ہی طبیعتوں میں ہیجان پایا جاتا تھا، روحیں سجدہ ریز تھیں۔یہ وہ مضمون ہے جس كا يزكيهم سے تعلق ہے۔تزکیہ کے لئے نفوس تیار ہو رہے ہیں لیکن اگر اس کے بعد تعلیم کتاب نہ کی گئی تو یہ جذبات کا ہیجان اسی طرح رفتہ رفتہ ٹھنڈا پڑ جائے گا اور کوئی نیک پاک مستقل تبدیلی پیدانہ کر سکے گا۔پس حضرت اقدس محمد مصطفی علی ہے کیونکہ تمام جہانوں کی کل عالم کی تربیت کے لئے مبعوث فرمائے گئے اس لئے وہ چار بنیادی باتیں جو تبلیغ اور تربیت سے گہرا تعلق رکھتی ہیں بلکہ یہ چار ستون ہیں جن پر تبلیغ اور تربیت کا جہان کھڑا ہے۔یہ اس شان کے ساتھ علی الترتیب بیان فرمائیں کہ ان کے مضامین پر غور کرنے سے وہ لوگ جو بنی نوع انسان کی سچی ہمدردی رکھتے ہوئے ان میں پاک تبدیلیاں پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ان کے لئے بہت بڑے پیغام ہیں بلکہ ان کی ساری ضرورتوں کو یہ آیات کریمہ بلکہ اس ایک آیت میں بیان فرمودہ چار باتیں کفیل ہو جاتی ہیں۔آخر پر فرمایا يُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ و تعلیم ہی نہیں دیتا بلکہ حکمت بھی بیان فرماتا ہے۔تعلیم سے مراد یہ ہے کہ آپ کسی کو بتائیں کہ نماز اس طرح پڑھنی چاہئے ، نماز میں یہ پڑھنا چاہئے ، روزے کیسے رکھے جاتے ہیں، کن کن بدیوں سے پر ہیز ضروری ہے، کیا کیا کام ہیں جو خدا کی خوشنودی کا باعث بنتے ہیں، کیا کیا کام ہیں جن سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے؟ یہ ہے کتاب کی تعلیم لیکن بہت سے لوگ اس تعلیم کی حکمت نہیں سمجھتے ، بہت سے لوگ ہیں جن کے ذہنوں میں کئی قسم کے اعتراض پیدا ہوتے