خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 461
خطبات طاہر جلد ۱۲ 461 خطبہ جمعہ اارجون ۱۹۹۳ء جہاں عموماً ذکر ملتا ہے وہاں بنیادی بات یہ بیان فرمائی ہے کہ یہ بات اس الہام سے قطعی ہے کہ یہ الہام میری صداقت کے اظہار کے لئے ظاہر ہوگا اور بڑی شان کے ساتھ ہوگا۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پارٹیشن کے وقت اپنی ہجرت کے وقت کے ساتھ بھی اس الہام کے مضمون کو باندھا تو بعض چیزیں ذوالوجوہ ہوتی ہیں۔ایک شان سے بھی پوری ہوتی ہیں دوسری سے بھی ، تیسری سے بھی مگر میں سمجھتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس الہام کو جتنی اہمیت دی ہے اور جس غیر معمولی نشان کے طور پر اس کو سمجھا ہے بعید نہیں کہ اس کا زمانہ اب قریب میں آنے والا ہو کیونکہ پاکستان میں خصوصیت کے ساتھ اور بعض دوسرے ملکوں میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تکذیب میں تمام حدیں پھلانگی گئی ہیں، بے حیائی کی کوئی بات چھوڑی نہیں گئی اس لئے اس کے مقابل پر خدا تعالیٰ کی طرف سے عالمی نشان ظاہر ہونے چاہئیں۔ایک وہ نشان ہے جو آپ اس وقت دیکھ رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمام عالم کی جماعت کو ایک جمعہ پر ایک ہاتھ پر اکٹھا ہونے کی توفیق بخشی ہے اور دنیا کے کونے کونے پر ایک بھی جگہ نہیں ، نہ شمال میں ، نہ جنوب میں، نہ مشرق میں، نہ مغرب میں جہاں جماعت احمدیہ کے امام کا خطبہ جمعہ دیکھا اور سنا نہ جاسکتا ہو تو یہ بھی ایک بہت بڑا نشان ہے لیکن بعد گیارہ نہیں اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ بعد گیارہ اس سے بھی بہت بڑا نشان ہوگا یا اسی نشان کی کوئی ایسی شان ظاہر ہوگی جس سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تصدیق کے لئے قوموں کے دل تیار ہوں گے اور یہ جو بیوست کا دور ہے ،نحوست سی چھائی ہوئی ہے اور یہ دور انشاء اللہ دور بہار میں بدل جائے گا۔اس توقع کے ساتھ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی عبارت آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں۔وو۔۔۔میں ہرگز یقین نہیں رکھتا کہ میں اس وقت سے پہلے مروں جب تک میرا قادر خدا ان جھوٹے الزاموں سے مجھے بری ثابت نہ کرے۔۔۔“ یہ ایک دور وہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دور وصال سے پہلے بہت سے نشانات کی صورت میں ظاہر ہو گیا اور انہی نشانات میں سے ایک الہی بخش کذاب کی موت کا