خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 446 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 446

خطبات طاہر جلد ۱۲ 446 حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس ضمن میں فرمایا کہ خطبہ جمعہ اارجون ۱۹۹۳ء ”ہماری جماعت کی ترقی بھی تدریجی اور گزرع (کھیتی کی طرح) ہوگی اور وہ مقاصد اور مطالب اس بیج کی طرح ہیں جو زمین میں بویا جاتا ہے۔وہ مراتب اور مقاصد عالیہ جن پر اللہ تعالیٰ اس (کھیتی) کو پہنچانا چاہتا ہے۔۔۔66 وو کھیتی کا لفظ میں نے وضاحت کے لئے داخل کیا ہے۔حضرت اقدس کے الفاظ ہیں :-۔۔۔وہ مراتب اور مقاصد عالیہ جن پر اللہ تعالیٰ اس کو پہنچانا چاہتا ہے۔ابھی بہت دور ہیں وہ حاصل نہیں ہو سکتے ہیں جب تک وہ خصوصیت پیدا نہ ہو جو اس سلسلہ کے قیام سے خدا کا منشاء ہے۔توحید کے اقرار میں بھی خاص رنگ ہو تبتل الی اللہ ایک خاص رنگ کا ہو ، ذکر الہی میں خاص رنگ ہو، حقوق اخوان میں خاص رنگ ہو۔“ ( ملفوظات جلد دوم صفحہ : ۶۷) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے یہ چار عنوانات قائم فرمائے ہیں جن کا تعلق مسیحی صفات سے بھی ہے اور حضرت اقدس محمد مصطفی ہی ہے کہ ان صفات حسنہ سے بھی ہے جن کا آیت میں ذکر فرمایا گیا ہے اور یہ صفات جو سیح سے تعلق رکھتی ہیں جب حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات میں اور ان لوگوں میں جلوہ گر ہوتی ہیں جو محلے کے تابع ہیں یعنی آپ کے ساتھ تھے تو ایک نئی شان کے ساتھ اس جلوے میں حیرت انگیز چمک اور دائمی روشنی پیدا ہو جاتی ہے یوں معلوم ہوتا ہے ایک بالکل نیا جلوہ ظاہر ہوا ہے۔اگر چہ صفات وہی ہیں جو پہلے بھی ظاہر ہو چکی ہیں۔اس تعلق میں قرآن کریم نے بھی ان باتوں کا ذکر فرمایا ہے جن کا مسیح نے ذکر فرمایا اور جہاں ذکر فر مایا وہاں ایک حیرت انگیز طور پر بڑھتے ہوئے جلوے کا بھی ذکر فر مایا اس لئے یہ کوئی فرضی بات نہیں، محض اس ذات کی تعریف میں ایک انسان کے کلمات نہیں جس سے محبت ہو بلکہ اللہ تعالیٰ نے واقعہ اسی رنگ میں اس مضمون کو قرآن کریم میں چھیڑا ہے جہاں جہاں مسیح نے ان صفات کا ذکر فرمایا ہے ان کے مقابل پر قرآن کریم نے بھی ان کا ذکر فرمایا اور موازنہ سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ ایک بالکل نئی شان کے ساتھ ان صفات کو چھیڑا گیا ہے اور نئے مضمون کو داخل کر کے ان کو بیان