خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 447 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 447

خطبات طاہر جلد ۱۲ 447 خطبہ جمعہ اارجون ۱۹۹۳ء فرمایا گیا ہے یہ مضمون چونکہ ایسا ہے جس کا جماعت احمدیہ سے گہرا تعلق ہے اور ان مقاصد سے ہے جن کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ ان تک پہنچنا ابھی دور ہے حالانکہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں جو صحابہ کی جماعت پیدا ہوئی اس میں سب سے زیادہ شان کے ساتھ یہ مقاصد ظاہر ہوئے تھے پھر آپ نے یہ کیوں فرمایا کہ ان مقاصد تک پہنچنا دور ہے اس سے مراد دراصل جد و جہد کا وہ لمبا زمانہ ہے جس میں سے گزر کر احمدیت نے ان مقاصد کو عالمی بنا دینا تھا اور ایک عالمگیر جماعت کے طور پر دنیا میں پھیل کر ان مقاصد کو پورا کرتے ہوئے تمام دنیا میں یہ صفات حسنہ پھیلا دینی تھیں اس لئے جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ وہ مقاصد یا ان تک پہنچنا دور کی بات ہے تو ہر گز یہ مراد نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں تو تربیت میں کمزوری تھی اور ابھی ان اعلیٰ مقاصد کو جماعت پا نہ سکی تھی مگر بعد کے دور کے زمانہ میں ایسا ہوگا جو بھی یہ معنی سوچے اس کی جہالت ہوگی کیونکہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کے متعلق ہی قرآن کریم کی یہ پیشگوئی تھی کہ وَ أَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ (الجمعہ (۴) اور یہ فیض ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کے صحابہ سے ہی پایا ہے۔اخرین کی صفات کو نسلاً بعد نسل آگے منتقل کرتے چلے جارہے ہیں۔پس اپنے اس مقام بجز کو خوب اچھی طرح پیش نظر رکھتے ہوئے اب اس مضمون پر غور کریں جو میں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو چار صفات بیان فرمائی ہیں یہ ایسی ہیں کہ ان میں سے ہر ایک صفت اپنی ذات میں ایک الگ خطبہ کا تقاضا کرتی ہے اور ایک ایک لفظ میں بڑے وسیع مضامین پر مشتمل عنوان بیان فرما دیئے گئے ہیں اور پھر ان کا آپس میں ایک ترتیبی تعلق بھی ہے جو بات پہلے بیان ہوئی ہے وہ پہلے ہی بیان ہونی چاہئے تھی جو بات دوسرے درجہ پر ہے وہ دوسرے درجہ پر بیان ہونی چاہئے تھی اور اسی طرح تسلسل کا ایک اندرونی تعلق جاری ہے۔یہ مضمون انشاء اللہ تعالیٰ آئندہ کسی وقت خدا نے توفیق دی تو بیان کروں گا مسلسل خطبوں میں اگر نہ بیان ہو سکے کیونکہ بعض دفعہ دوسری ضرورت کی چیزیں مجبور کر دیتی ہیں کہ تسلسل کو توڑ کر ایک اور مضمون کو شروع کر دیا جائے لیکن یہ سارا مضمون میرے ذہن میں ہے آئندہ جب بھی توفیق ملے گی تو انشاء اللہ اس کو سلسلہ وار آگے بڑھاؤں گا۔