خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 431 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 431

خطبات طاہر جلد ۱۲ 431 خطبه جمعه ۴/ جون ۱۹۹۳ء وہ ذکر جو قرآن کریم میں عَبَسَ وَ تَوَلّی (عبس:۲) میں ملتا ہے اس کا اس مضمون سے تعلق ہے۔حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی خدمت میں پہلے ایک قوم کا بڑا سردار آیا اور آپ اس سے مصروف گفتگو تھے اور اسے اس لئے اہمیت دے رہے تھے کہ اگر وہ مسلمان ہوتا تو بعید نہیں تھا کہ اس کے ساتھ اس کی قوم بھی مسلمان ہو جاتی۔پس کسی ذاتی عظمت کے طور پر اس کو اہمیت نہیں دے رہے تھے بلکہ ایک دینی فائدے کے پیش نظر اس کو جو مقام حاصل تھا اس کو ایک خاص مرتبہ دے کر اس کے ساتھ غیر معمولی شفقت کا سلوک فرماتے ہوئے توجہ دے رہے تھے کہ اتنے میں مخلص فدائی صحابی جو آنکھوں سے اندھے تھے وہ حاضر ہوئے۔ان کو پتا نہیں تھا کہ کون بیٹھا ہے اور کس سے گفتگو ہو رہی ہے اور جس طرح اندھوں کو جب نظر نہیں آتا تو پتا نہیں ہوتا کہ کون بیٹھا ہے اور کیا کہنا ہے ، لحاظ نہیں کر سکتے اسی طرح انہوں نے فوراً اپنی مرضی کی گفتگو شروع کر دی اور وہ دراصل اس گفت و شنید میں دخل اندازی تھی۔آنحضور ع اللہ نے منہ سے کچھ نہیں فرمایا۔لفظی سختی کے ساتھ کوئی تنبیہ نہیں فرمائی لیکن اگر ناراضگی کا کوئی اظہار نہ کرتے تو وہ معزز انسان سمجھتا کہ میری بے عزتی ہوئی ہے اور انہوں نے اس کو قبول کر لیا ہے اس لئے ماتھے پر بل ڈالے۔آنحضرت ﷺ کا مقام ومرتبہ اللہ کے نزدیک اتنا بلند تھا کہ اللہ تعالیٰ کو وہ بل بھی پسند نہ آئے حالانکہ اگر دنیا کے عام معاملات میں دیکھیں اور کسی اور سے یہ واقعہ ہوا ہوتا تو اس کی عظمت کردار کے نشان کے طور پر بیان کیا جاتا کہ دیکھو اس نے آنے والے کی بھی عزت رکھ لی اور غلطی کرنے والے کی غلطی سے اپنی ناپسندگی کا اظہار ایسے کیا کہ غلطی کرنے والے کی دل شکنی نہ ہوئی اور آنے والے کی عزت افزائی ہوگئی۔حسن خلق اور عظمت کردار کا ایک عظیم امتزاج ہے لیکن جیسا کہ میں نے بیان کیا انبیا ء خدا کے حضور عجز کا ایک ایسا مقام رکھتے ہیں اور ایسی محبت کا تعلق رکھتے ہیں کہ اپنی چھوٹی سے چھوٹی غلطی کو بھی بہت بڑا دیکھ رہے ہوتے ہیں۔جب خدا کی نظر سے دیکھا جائے تو اس وقت اس کی حکمت اور نمایاں ہو کر سمجھ میں آجاتی ہے۔اللہ تعالیٰ بھی ان سے بہت بلند توقع رکھتا ہے اور اس واقعہ نے بتایا کہ وہ چھوٹی سی لغزش جسے دنیا کی اصطلاح میں ایک عظیم حسن خلق کا مظاہرہ کہنا چاہئے اس پر اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو پیار اور محبت سے سمجھایا کہ ایک اندھا آ گیا تھا اس لئے تو نے ماتھے پر بل ڈالے لیکن تجھے کیا پتہ کہ وہ تیری باتوں کو زیادہ توجہ سے سنتا اور فائدہ اٹھاتا اور تجھے کیا پتا کہ وہ شخص جس کے لئے تو اتنی جد و جہد کر رہا تھا