خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 430
خطبات طاہر جلد ۱۲ 430 خطبه جمعه ۴/ جون ۱۹۹۳ء کھلم کھلا ناراضگی کا اظہار فرمایا ہے اس لئے یہ درست ہے کہ انسانوں سے معافی مانگنے میں ہمیں ضرور جلدی کرنی چاہئے اور پہل کرنی چاہئے لیکن خدا تعالیٰ سے معافی کی طرف بھی نظر رہنی چاہئے اور زیادہ نظر رہنی چاہئے۔سب سے بڑا محسن وہ ہے لیکن پھر ہم کیوں اس سے غافل ہوتے ہیں؟ یہ نکتہ بھی مجھے اس ملاقات سے سمجھ میں آیا۔جب تک میں خلیفہ نہیں بنا اس وقت تک یہ گناہ دل پر بوجھ نہیں تھا کیونکہ میرا کوئی احترام دل میں نہیں تھا لیکن جب خلیفہ بنا اور تعلق احترام میں تبدیل ہو گیا تو وہ چھوٹی سی غلطی بہت بڑا بوجھ بن گئی۔تو اللہ تعالیٰ کا اگر احترام ہو ، اس کی قدر دل میں ہو تو گناہ بھی بہت بوجھ بن جایا کرتے ہیں۔معرفت کا یہ نکتہ حقیقت میں ہمیں حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی سنت سے پتا چلتا ہے کیونکہ یہ سوچتے ہوئے اچانک میرا ذہن حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف منتقل ہوا کہ آپ کیوں استغفار کیا کرتے تھے ؟ ایک معنی تو وہ ہے جو معروف ہے ہر نبی بجز اور انکساری میں استغفار کرتا ہے اور بشری کمزوریوں کے نتیجہ میں بھی استغفار کرتا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی اس واقعہ سے مجھے ایک اور بات سمجھ آئی کہ ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کا احترام اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ وہ چھوٹی چھوٹی باتیں جو عام انسان کے ذہن میں کوئی اہمیت نہیں رکھتیں اور ان کو گناہ قرار دیا ہی نہیں جاسکتا لیکن جب نبی کے نقطۂ نظر سے انہیں دیکھا جائے تو خدا کی محبت اور اس کے احترام کے نتیجہ میں وہ معمولی سی لغزش جو ہمارے اعمال کے اوپر اگر اس کو پرکھ کر دیکھا جائے تو لغزش ہے ہی نہیں بلکہ بعض دفعہ وہ صفت حسنہ بن جاتی ہے مگر انبیاء کو خدا سے ایسی محبت ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کا اتنا گہرا احترام ان کے دل میں ہوتا ہے کہ اس کے سامنے وہ چھوٹی سی لغزش بہت بڑی دکھائی دیتی ہے اور ان کا معاملہ اس محاورے کے بالکل برعکس ہو جاتا ہے کہ اپنی آنکھ کا شہتیر بھی دکھائی نہیں دیتا اور دوسری آنکھ کا تنکا بھی شہتیر دکھائی دیتا ہے۔ان کو اپنی آنکھ کے معمولی سے تنکے کا ایک چھوٹا سا ذرہ بھی شہتیر دکھائی دیتا ہے اور دوسروں سے مغفرت کا سلوک کرتے ہیں دوسروں کے عیوب کو نہ نمایاں کر کے دیکھتے ہیں۔نہ بیان کرتے ہیں اور جب سرزنش کرنی ہو یا کسی کو سمجھانا ہو تو ضرور سرزنش بھی کرتے ہیں اور سمجھاتے بھی ہیں لیکن حتی المقدور یہ کوشش کرتے ہیں کہ کسی کی دل آزاری نہ ہو کسی کو اس سے تکلیف نہ پہنچے۔