خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 432 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 432

خطبات طاہر جلد ۱۲ 432 خطبه جمعه ۴/ جون ۱۹۹۳ء کہ اسے ہدایت نصیب ہو وہ مستغنی ہو جائے اور پیٹھ پھیر کر چلا جائے تو یہ وہ مضمون تھا جو اسی تسلسل وہ میں میرے ذہن میں ابھرا اور میں نے سوچا کہ جماعت کو اس مضمون کی باریکیوں سے بھی آگاہ کروں اور اس ضمن میں عائد ہونے والے فرائض سے بھی مطلع کروں۔معاف کرنا بھی اچھی چیز ہے لیکن معافی مانگنا بہت ہی اچھی چیز ہے اور وقت پر اپنے ایسے بھائی سے معافی مانگ لینا جس کی دل آزاری ہوئی ہو خواہ وہ ارادہ ہوئی یا غیر ارادی طور پر ہوئی ہو یہ ایک ایسا خلق ہے جس کے نتیجہ میں اللہ کی بخشش کی زیادہ توقع کی جاسکتی ہے۔اس لئے انسان اگر صرف در گزر کا ہی سلوک نہ کرے بلکہ دوسرے بھائی سے اس کی دل آزاری کی معافی مانگنے میں جلدی کرتا ہو تو میں امید رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ مغفرت کا سلوک فرمائے گا اور تو اللہ تعالیٰ کی لا متناہی مغفرت سے حصہ لینے کا ایک یہ بھی طریق ہے۔دنیا میں میں نے دیکھا ہے کہ بعض لوگ لمبا عرصہ محبت اور حسن و احسان کا تعلق رکھتے ہیں لیکن اگر کسی دوست سے ادنی سی لغزش ہو جائے یا کسی وقت ناراضگی کا کوئی کلمہ منہ سے نکل جائے تو تعلق توڑ بیٹھتے ہیں اور ناراض ہو جاتے ہیں حالانکہ خدا تعالیٰ نے بعض جانوروں میں حُسن خلق کی جو مثالیں رکھی ہیں اگر وہ کتے کی طرف دیکھتے تو اس سے بھی وہ فائدہ اٹھا سکتے تھے کیونکہ کتے کے متعلق ایک فارسی شاعر کہتا ہے کہ یہ عجیب جانور ہے کہ اس کو ایک دفعہ روٹی دے دو اور سو بار سوٹی اٹھاؤ تو یہ آگے سے اف نہیں کرتا اور اسی طرح دم ہلاتا رہتا ہے لیکن انسان ایک عجیب جانور ہے کہ اس سے سو بار احسان کا سلوک کرو اور ایک بار استثناء کرو تو وہ ناراض ہو جاتا ہے اور بڑھ بڑھ کر باتیں کرتا ہے اور بعض اوقات حملہ کر بیٹھتا ہے تو انسان اور جانور میں یہ فرق ہے جو ہم پر یہ بات ظاہر کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق میں بعض ایسے اعلیٰ اخلاق رکھ دیئے ہیں کہ جو انسان کو متکبر نہیں ہونے دیتے۔اگر وہ غور اور فکر کا عادی ہو تو اس کے لئے آفاق میں ایسے نشانات ہیں جو اسے عاجز ہونے پر مجبور کر دیں گے۔اس کا سر ہمیشہ زمین پر جھکائے رکھیں گے کیونکہ کہیں اس کو کتا اپنے سے اعلیٰ اخلاق کا دکھائی دے رہا ہوگا، کہیں کوے اعلیٰ اخلاق کے دکھائی دیں گے۔اسے بعض دفعہ ہزار روٹیاں مل جاتی ہیں تو وہ کسی غریب کو نہیں پوچھتا اور کوے کو روٹی کا ایک ٹکڑا مل جائے تو سارے بھائیوں کو آوازیں دے دے کر بلاتا ہے اور جب تک سب کو شریک ہونے کا موقع نہ دے اس وقت تک چھینا جھپٹی نہیں ہوتی۔جب سب پہنچ جاتے ہیں تو پھر ہر ایک