خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 375 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 375

خطبات طاہر جلد ۱۲ 375 خطبه جمعه ۱۴ رمئی ۱۹۹۳ء جائے گی۔کیسا دوغلہ پن ہے؟ کیسی Hyppocracy ہے کہ ایک طرف بالا قانون جو خدا کا قانون ہے اس کو بلوغت کے وقت ٹھکرا کر پارہ پارہ کر کے قدموں میں پھینک دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے یہ پرانا طوق تھا اس کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے قدموں میں پھینکنا ہی اس کے ساتھ بہترین سلوک ہے اور جہاں انسانی قانون کا تعلق ہے وہ طوق پہنا دیئے جاتے ہیں۔علاوہ ازیں اس سلسلہ میں ایک چیز ہے جس کو وہ بھلا دیتے ہیں اور وہ یہ بات بھلا دیتے ہیں کہ دنیا کے قانون میں بھی عملدرآمد کے لئے دراصل خوف خدا ہی کی ضرورت ہے۔اگر دنیا کے قانون کو خدا سے خالی کر کے دیکھا جائے تو ہر انسان اس قانون کو اپنے طور پر توڑنے کی کوشش کرے گا خواہ کتنی بھی سزائیں مقرر ہوں۔مجرم جب جرم کر رہا ہوتا ہے تو اس غالب گمان کے تابع وہ جرم کرتا ہے کہ میں دکھائی نہیں دے رہا۔دن کی بجائے راتوں کے جرم بڑھ جاتے ہیں اور ہر انسان جرم سے پہلے گردو پیش دیکھتا ہے اور اپنی طرف سے تسلی کر لیتا ہے کہ میں دکھائی نہیں دوں گا یا پکڑا نہیں جاؤں گا۔تو جہاں خدا کا تصور مٹ جائے وہاں حقیقت میں دنیا کے قانون کا احترام بھی لاز مانتا ہے اور یہ ان لوگوں کی بے وقوفی ہے کہ یہ رجحان پیدا کر کے خدا کا تو انکار کر دو اور ہمارے قانون کا احترام کرد ، واقعہ ملکی قانون کا احترام کروالیں گے؟ یہ ہو نہیں سکتا۔بے خدا سوسائٹیاں قانون سے ہی دور ہو جاتی ہیں اور قانون شکنی ان کی فطرت کا حصہ بن جایا کرتی ہے اور قانون سے بچ کر بھاگنے کا جو تصور ہے یہ حقیقت میں جرم کروانے پر انسان کو آمادہ کرتا ہے اور یہ خُطوتِ الشَّيْطَنِ کی ایک قسم ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو تجزیہ پیش فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ جب تم بلوغت کو پہنچتے ہو ، جب حساب کتاب کی عمر کو پہنچتے ہو تو یا د رکھو کہ دنیا کے قانون سے تم بھاگ سکتے ہومگر خدا کے قانون سے بھاگ نہیں سکتے۔اس لئے اگر زیادہ احترام کی بات ہے تو خدا کے قانون کا زیادہ احترام کرو کیونکہ دنیا کا قانون توڑو گے تو بچنے کی کئی صورتیں پیدا ہوسکتی ہیں مگر خدا کا قانون تو ڑ کر بچنے کی کوئی صورت نہیں۔اس کی ایک مثال میں نے آپ کے سامنے ابھی رکھی ہے۔ساری دنیا میں جو جرم بڑھ رہے ہیں اور بے اطمینانی بڑھ رہی ہے یہ اسی خدا کے قانون کو توڑنے کا نتیجہ ہے جس کو میں نے بیان کیا ہے۔آپ کو سمجھنا چاہئے کہ سزائیں دو قسم کی ہیں۔کچھ سزائیں ہیں جو Built in ہیں نظام کے