خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 374 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 374

خطبات طاہر جلد ۱۲ 374 خطبه جمعه ۴ ارمئی ۱۹۹۳ء بنیں گے وہ وہی زہر کھاتے چلے جاتے ہیں اور وہ ان کے رگ وریشے میں سرایت کرتا چلا جاتا ہے۔رزق حلال کہنے میں ایسی بات ہے کہ رزق حلال کی کیا ضرورت ہے۔صوفی لوگ رزق حلال کھائیں، عام روز مرہ کی زندگی میں چل نہیں سکتا مگر قرآن کریم نے جو تجزیہ آپ کے سامنے رکھا ہے اس کی روشنی میں اتنا بڑا گناہ ہے کہ انفرادی ہو تو می ہو مذہبی دنیا ہو یا غیر مذہبی دنیا ہو ہر سطح پر اور ہر قوم اور ہر علاقہ سے اس کا گہرا تعلق ہے اور اگر رزق حلال کارجحان انسانوں میں پیدا نہ کیا جائے تو قو میں تباہ ہو جاتی ہیں اور پھر ان کا کوئی اور علاج نہیں۔اس آیت کے باقی حصے سے متعلق انشاء اللہ آئندہ بات کروں گا لیکن گزشتہ خطبہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک اقتباس پڑھنے سے رہ گیا تھا اس کا اس مضمون سے گہرا تعلق ہے وہ میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔میں نے یہ بیان کیا تھا کہ جن قوموں میں اخلاق مٹ رہے ہوں اور خدا کا تصور مٹ رہا ہو وہاں قومی رجحانات ایسے ہو جاتے ہیں کہ وہ خود نئی اٹھنے والی نسلوں کو گمراہی کی طرف لے کر جاتے ہیں اور گمراہی کی طرف لے جانا فیشن بن جاتا ہے۔گمراہی کی طرف لے جانا ترقی پسندی کی نشانی سمجھی جاتی ہے۔گمراہی کی طرف لے جانا بالغ نظری سمجھا جاتا ہے چنانچہ میں نے بیان کیا تھا کہ یہاں صرف انگلستان ہی کی بات نہیں مغربی دنیا میں جہاں جہاں بھی میں گیا ہوں وہاں سکولوں کے بچوں نے سوال کرتے ہوئے مجھ سے پوچھا ہے کہ ہمیں ہمارے اساتذہ کہتے ہیں کہ اب تم بڑے ہو رہے ہو اس لئے اب تمہیں اپنے ماں باپ کی اخلاقی قدروں کی پیروی کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تم آزاد ہو رہے ہو تم بالغ ہورہے ہو جو چاہو کرو، یہ دنیا چند روزہ ہے اس میں تمہیں آزادی ہے اور وہ ماں باپ یا وہ مذہبی راہنما جو اخلاقی تصور کے تابع تمہاری زندگیوں کو بعض ضابطوں میں ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں وہ تمہارے دشمن ہیں ان کا کوئی حق نہیں تم پر پابندی لگانے کا تمہیں نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا کر دیتے ہیں۔اگر کچھ کرنے کو دل چاہ رہا ہے تو کرو بے شک ، روک کر کیوں رکھتے ہو اگر روک کر رکھو گے تو تم نفسیاتی بیمار بن جاؤ گے اور قانون تمہیں حق دیتا ہے۔اپنے ماں باپ کے خلاف اپنے مذہب کے خلاف بے شک بغاوت کرو کوئی پابندی نہیں ہے اور دوسری طرف قانون یہ اعلان کر رہا ہوتا ہے کہ خبر داراب تم بالغ ہو رہے ہو۔پہلے ہم تم سے نرمی کرتے تھے اب اگر تم نے اس قانون کو توڑا تو تم سے سختی کی جائے گی اور کوئی رعایت نہیں کی