خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 376
خطبات طاہر جلد ۱۲ 376 خطبه جمعه ۴ ارمئی ۱۹۹۳ء اندر بنی ہوئی ہیں۔اس نظام کو جب آپ تو ڑتے ہیں تو وہ سزائیں ٹوٹے ہوئے نظام سے اُچھل کر آپ پر حملہ کرتی ہیں۔جس طرح شیشے کا گلاس ٹوٹ جائے تو اس کے بعض ٹکڑے انسان کو زخمی کر دیتے ہیں غلطی سے پاؤں پڑ جاتا ہے تو انسان زخمی ہو جاتا ہے مگر خدا کے قانون کو توڑنے کے نتیجہ میں غلطی کا سوال نہیں ہے، وہ قانون خود اپنے بدلے لیتا ہے۔پس جہاں رزق حلال کو آپ فرضی اور پرانے زمانے کی بات سمجھ لیں وہاں یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ ایسی سوسائٹی کو سزا نہ ملے جوحرام رزق کی عادی ہو چکی ہو اور وہ سزائیں آپ دیکھ رہے ہیں۔نہ امریکہ اس سے بچا ہے ، نہ انگلستان بیچا ہے ، نہ جرمنی بچا ہے اور مشرقی قو میں تو سر سے پاؤں تک سزائیں بھگت رہی ہیں اور ان کو ہوش نہیں آرہی۔دوسری سزاوہ ہے جو خدا بعد میں دیتا ہے۔مرنے کے بعد کی دنیا میں اس کی روح جو مسخ دیتا شدہ حالت میں بیمار روح کے طور پر اٹھتی ہے وہ خود اپنی ذات میں ایک سزا بن جاتی ہے۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ دو دنیاوی حکام کا بھی یہی حال ہے کہ وہ ایک قانون مشتہر کر دیتے ہیں اور پھر اگر کوئی ان کے احکام کو توڑتا اور خلاف ورزی کرتا ہے تو پکڑا جاتا اور سزا پاتا ہے۔۔۔فرمایا اسی طرح خدا نے بھی نظام بنایا ہوا ہے یہ مضمون پیچھے سے چلا آ رہا ہے۔یہ خیال نہ کرو کہ خدا چھوڑ دے گا۔دنیا کے حکام جس طرح اپنے قانون توڑنے والوں کو سزا دیتے ہیں کائنات کا حاکم اپنے قانون توڑنے والوں کی سرزنش کرتا ہے، پرسش کرتا ہے، ان کا مؤاخذہ کرتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ مشتہر ہونا چاہئے۔سب کو پتا لگ جانا چاہئے ، چنانچہ مذاہب آتے ہیں اور خدا کے قانون کی خوب منادی کرتے ہیں، خوب کھول کھول کر بیان کرتے ہیں کہ یہ جائز ہے اور یہ نا جائز ہے۔پھر فرماتے ہیں لیکن دنیاوی حکام کے عذاب سے اور ان کے قوانین ، احکام کی و حکام کی خلاف ورزی کی سزا سے آدمی کسی دوسری عملداری میں بھاگ جانے سے بچ بھی سکتا ہے۔ابھی حال ہی میں انگلستان سے ایک مبینہ مجرم نے بھاگ کر ایک اور ملک میں پناہ لی ہے اور Bail اپنی Jump کر گئے ہیں۔Bail ضائع کر دی ہے اور کہا ہے کہ میں اس ملک میں دوبارہ نہیں آؤں گا۔انگلستان بڑی کوشش کر رہا ہے کہ کسی طرح اس دوسرے ملک سے پکڑ کر ان کو واپس