خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 371
خطبات طاہر جلد ۱۲ 371 خطبه جمعه ۱۴ مئی ۱۹۹۳ء ہیں کہ اب کیا ترکیب کی جائے ، کون سا ٹھیکہ کس طرح لیا جائے ، کس طرح بنک سے پیسے لوٹے جائیں۔کس خاندان کے نام پر کس قانون کا سہارا لے کر قومی دولت کو اپنایا جائے اور چھوٹی سطح پر روزمرہ کی زندگی میں غریب آدمی بیچارہ بھی اپنے لئے ترکیبیں سوچتا رہتا ہے کہ میں دو وقت کی روٹی کھانے کے لئے کون سے دھو کے کروں۔کونسی چالاکیاں کروں۔آٹے میں کیا چیز ملاؤں کہ پتا نہ لگے اور میرا منافع بڑھ جائے وغیرہ وغیرہ۔تو اوپر سے نیچے تک ساری قوم خُطواتِ الشَّيْطَنِ کا شکار ہو جاتی ہے اور یہ فیصلے ہر سطح پر اس کثرت سے ہو رہے ہوتے ہیں کہ اگر آپ ان کو شمار کرنا چاہیں تو شمار ہو نہیں سکتے کیونکہ ہر انسان صبح سے رات تک بعض دفعہ بیسیوں فیصلے کرتا ہے اور وہ فیصلے خُطُوتِ الشَّيْطن کے نتیجہ میں ہورہے ہوتے ہیں اور غلط فیصلے کرتا ہے اور اپنے لئے بھی جہنم بنا رہا ہوتا ہے اور اپنے بھائیوں کے لئے اپنے معاشرے کے لئے بھی جہنم بنا رہا ہوتا ہے۔مگر جب قوم کے لیڈر اس قسم کے رزق حرام میں مبتلا ہو جائیں تو ساری قوم کا ستیا ناس کر کے رکھ دیتے ہیں۔انفرادی سطح پر اگر دیانت پیدا کرنے کی کوشش کی بھی جائے تو وہ کوشش ناکام ہوگی۔اب تیسری دنیا کے بعض ممالک ہیں جہاں سیاست صرف روپیہ کمانے کی غرض سے ہے اور سیاست کے ذریعہ طاقت حاصل کرنا یا دولت کے سرچشموں پر قبضہ کرنا۔یہ ایک ہی چیز کے دو نام بن گئے ہیں ایک کے بعد دوسری جو بھی حکومت آتی ہے بددیانت آتی ہے۔وہی مصرعہ صادق آتا ہے کہ یعے ہمارے واسطے سارے ولی این ولی آئے نام جو مرضی رکھ لیں، خاندان جتنے مرضی تبدیل ہوں۔سیاسی پارٹیوں کے کوئی بھی نام ہوں جو بھی قابض ہوتا ہے اس کی تاریخ دیکھ لیں وہ ملک کی دولت پر قبضہ کرنے کی نیت سے قابض ہوتا ہے اور جب ایک قابض ہوتا ہے تو وہ پھر پچھلوں کے اوپر نکتہ چینی کرتا ہے کہ دیکھو کتنے بے ایمان بد دیانت لوگ تھے۔اتنا روپیہ کھا گئے اور اب ہم اس طرح ان کا حساب لیں گے اور محاسبہ ہو گا اور ایک ایک پائی ان سے واپس وصول کی جائے گی اور پھر ہوتا یہ ہے کہ وصول نہیں کی جاتی۔اب سوال یہ ہے کہ اتنے دشمن تھے جن کو شکست دی گئی۔ایسے ظالم لوگ تھے جنہوں نے قوم کو لوٹا اور ان کے ساتھ دوستی کی کوئی وجہ نہیں پھر کیوں محاسبہ نہیں ہوا، کیوں ان سے پائی پائی کا حساب نہیں لیا گیا ، وجہ یہ ہے کہ ان کو اپنی آخرت نظر آ رہی ہوتی ہے ان کو پتا ہوتا ہے کہ کل ہم اسی مقام پر ہوں گے، ہمارا بھی