خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 372 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 372

خطبات طاہر جلد ۱۲ 372 خطبه جمعه ۱۴مئی ۱۹۹۳ء محاسبہ ہوگا تو عوام الناس کو دکھانے کے لئے ایک شور برپا ہو جاتا ہے کہ دیکھو پکڑے گئے، پکڑے گئے اب بیچ کر نہیں نکل سکتے۔ہمیں پتا ہے کہ کن کن بینکوں سے کتنے کتنے روپے نکلوائے ہوئے تھے یا کس کس سے کتنی رشوت لی ہوئی تھی اور پھر وہ سارا معاملہ کھٹائی میں پڑ جاتا ہے۔مڑ کر دیکھ لیں کسی کا کوئی محاسبہ نہیں ہوا۔ہوا ہے تو بے نتیجہ ہوا ہے اور اس لئے کہ آگے کل بھی انہوں نے حساب دینا ہے اور اسی قسم کے لوگ اوپر آئے ہوں گے وہ بھی ان کے ساتھ پھر یہی کریں گے۔پس رزق حرام کے نتیجہ میں قو میں تباہ ہورہی ہیں، سیاستیں بگڑ گئی ہیں ،ساری سوسائٹی زہر آلود ہو چکی ہے، ہر چیز جھوٹی ہوگئی ہے اور قرآن کریم کی ایک نصیحت کا ایک پہلو ہے جس کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔بعد میں خُطُوتِ الشَّيْطن کا ذکر یہ بتانے کے لئے فرمایا ہے کہ تمہارا رخ کیا ہو گا۔تم آخر شیطان ہو جاؤ گے کیونکہ جس کی پیروی کرتے ہو وہی بن جایا کرتے ہو۔شروع میں تم سمجھتے ہو کہ تھوڑے سے پیسوں کی بات ہے، اپنے بیوی بچوں کا معیار زندگی بڑھالیں تو کیا فرق پڑتا ہے۔چھوٹے چھوٹے عام لوگ جنہوں نے دولت کمالی ہے یہ عیش و عشرت کرتے پھر رہے ہیں اور ہمارے پاس جو اتنے بڑے افسر ہیں کار کوئی نہیں جبکہ باقیوں کے پاس کاریں ہیں۔ہم حکومت کے اچھے نوکر ہیں چنانچہ وہ ان کو پکڑتے ہیں کہ ہم سے تم کام لیتے ہو اور آئے دن درخواستیں کرتے ہو اپنا معیار اونچا کیا ہوا ہے اور ہماری پر واہ کوئی نہیں تو وہ اپنا معیار کچھ بلند کرنے کے لئے اپنے ذہن کو آمادہ کرتے ہیں کہ تمہارا حق ہے اور اس آمادگی کے ساتھ ہی حقیقت میں اپنے آپ کو شیطان کی پیروی پر تیار کر لیتے ہیں اور اپنے آپ کو بہانے مہیا کر دیتے ہیں کہ شیطان کی آئندہ سے اطاعت کیا کرو۔کوئی فرق نہیں پڑتا فائدہ ہی ہوگا۔یہ خُطوتِ الشَّيْطن کہاں لے جاتے ہیں۔اس کا خلاصہ اس آیت نے یہ پیش فرمایا اِنہ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ تم بڑے ہی جاہل لوگ ہو جس کی پیروی کرتے ہو وہ تمہارا کھلا کھلا دشمن ہے۔خدا کی باتوں کو چھوڑ کر جب غیر اللہ کی باتیں مانو گے تو یا درکھو کہ صرف خدا تمہارا دوست ہے۔اللہ جو بھی نصیحت فرماتا ہے حق کی نصیحت کرتا ہے، تمہارے فائدے کی نصیحت کرتا ہے اور غیر اللہ کی ہر نصیحت ظلم کی نصیحت ہوا کرتی ہے۔تو جو شخص اپنے کھلے دشمن کی باتوں میں آجائے اس کا کیا نیک انجام ہوسکتا ہے، وہ تو ہمیشہ کے لئے ختم ہو گیا، مارا گیا کیونکہ اپنے آپ کو اپنے دشمن کے ہاتھوں میں دے دیا، اپنی اولادکو اپنے دشمن کے ہاتھوں میں دے دیا۔